اسلام آباد (کشمیر ڈیجیٹل) وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں توانائی کی بچت کی غرض سے نافذ کیے گئے سابقہ کفایت شعاری کے اقدامات کو ختم کرنے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، جس کے بعد سرکاری ملازمین کے لیے مراعات بحال کر دی گئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، کابینہ ڈویژن نے وزیراعظم کی منظوری کے بعد اس فیصلے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے، جس کے تحت سرکاری سطح پر ایندھن کی بچت کے لیے اٹھائے گئے سابقہ اقدامات فوری طور پر واپس لے لیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان انتخابات،سرکاری نتائج کا اعلان، پیپلزپارٹی کو بڑا جھٹکا لگ گیا
نئی پالیسی اور سرکاری دفاتر کے دفتری اوقات:
کابینہ ڈویژن کے تازہ حکم نامے کے مطابق اب سرکاری ملازمین کے لیے ہفتے میں جاری جمعہ کی خصوصی چھٹی کو ختم کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، سرکاری افسران کے لیے پیٹرول کی مکمل فراہمی کی سہولت دوبارہ بحال کر دی گئی ہے اور انہیں 60 فیصد سرکاری گاڑیاں دوبارہ استعمال کرنے کی باضابطہ اجازت مل گئی ہے۔ واضح رہے کہ 9 مارچ 2026 سے قبل نافذ العمل کیے گئے دیگر کفایت شعاری اقدامات بدستور لاگو رہیں گے۔
تجارتی مراکز اور شادی ہالز کے اوقات کار کی پابندیاں برقرار:
دوسری جانب، نئی پالیسی میں تجارتی مراکز اور دیگر کاروباری سرگرمیوں کے حوالے سے اوقات کار کی پرانی پابندیاں بدستور برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے:
مارکیٹس اور دکانیں: نوٹیفکیشن کے مطابق تمام چھوٹی بڑی دکانیں، مقامی مارکیٹس اور شاپنگ مالز ہر صورت رات 9 بجے بند کرنا ہوں گے۔
شادی ہالز اور ریسٹورنٹس: شادی ہالز کو رات 10 بجے تک اپنی تمام تر تقریبات سمیٹنے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ ریسٹورنٹس اور کیفے رات 11 بجے بند ہوں گے۔ البتہ ہوٹلوں سے ہوم ڈلیوری اور ٹیک اوے کی سہولت اس پابندی سے مستثنیٰ رہے گی۔
مزید پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ: پیراگوئے نے ترکیہ کو 0-1 سے ہرا کر ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا
پابندی سے مستثنیٰ شعبے: میڈیکل اسٹورز، اسپتال، لیبارٹریز، بیکریاں، دودھ کی دکانیں اور تندور اوقات کار کی اس پابندی سے مکمل آزاد ہوں گے۔ اسی طرح پیٹرول پمپس، سی این جی اسٹیشنز، الیکٹرک وہیکل چارجنگ پوائنٹس، جم، اسپورٹس کلبس، آئی ٹی کمپنیز اور کال سینٹرز بھی معمول کے مطابق چوبیس گھنٹے کھلے رہ سکتے ہیں۔




