لاہور (کشمیر ڈیجیٹل) لاہور کی انسدادِ دہشتگردی عدالت (اے ٹی سی) نے 9 مئی کے پرتشدد مظاہروں کے دوران مغلپورہ کے علاقے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گاڑیوں کو نذرِ آتش کرنے اور توڑ پھوڑ کے ہائی پروفائل مقدمے کا حتمی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
کوٹ لکھپت جیل لاہور کے اندر قائم خصوصی عدالت میں انسدادِ دہشتگردی عدالت کے جج منظر علی گل نے اس کیس کا محفوظ شدہ فیصلہ علانیہ طور پر سنایا۔ یاد رہے کہ عدالت نے 18 جون کو تمام فریقین کے وکلا کے تفصیلی اور آخری دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا، جسے اب باقاعدہ عام کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 9 مئی کیس : یاسمین راشد کی ضمانت منظور،مچلکے جمع کروانے کا حکم
شاہ محمود قریشی کی بریت اور سرکاری گواہان کی تفصیلات:
خصوصی عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں پاکستان تحریکِ انصاف کے مرکزی نائب صدر اور سابق وزیرِ خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کو مغلپورہ جلاؤ گھیراؤ کیس سے باقاعدہ طور پر بری کرنے کا حکم صادر کیا ہے۔ عدالت کا مؤقف ہے کہ سابق وزیرِ خارجہ کے خلاف اس مخصوص جرم میں براہِ راست ملوث ہونے کے کوئی ٹھوس یا ناقابلِ تردید شواہد سامنے نہیں آ سکے۔ اس حساس مقدمے کی طویل سماعتوں کے دوران پراسیکیوشن (سرکاری دائرہ کار) کی جانب سے عدالت کے روبرو کل 37 گواہوں کو پیش کیا گیا تھا، جن کے بیانات قلمبند ہونے اور جرح مکمل ہونے کے بعد عدالت نے شاہ محمود قریشی کی بریت کا فیصلہ سنایا۔
پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کو 10، 10 سال قیدِ باوجوش کا حکم:
دوسری جانب، عدالت نے اسی کیس میں نامزد پاکستان تحریکِ انصاف کے دیگر سینیئر ترین رہنماؤں کو مجرم قرار دیتے ہوئے سخت سزائیں سنائی ہیں۔ انسدادِ دہشتگردی عدالت نے سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ، سینیٹر اعجاز چوہدری، سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد اور میاں محمود الرشید کو جرم ثابت ہونے پر 10، 10 سال قیدِ باوجوش کی سزا کا حکم دیا ہے۔ ان تمام سینیئر سیاستدانوں پر مغلپورہ کے مقام پر مشتعل ہجوم کو اکسانے، امن و امان تباہ کرنے اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت سرکاری املاک کو شدید نقصان پہنچانے کے الزامات سچے پائے گئے ہیں۔
9 مئی کے واقعات کا پسِ منظر اور مغلپورہ کیس:
ملک کی حالیہ سیاسی تاریخ میں 9 مئی کے پرتشدد واقعات کو ایک انتہائی حساس اور اہم موڑ قرار دیا جاتا ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی چیئرمین کی اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے رینجرز کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد ملک کے طول و عرض میں شدید اور پرتشدد احتجاجی لہر دیکھنے میں آئی تھی، جس کے دوران لاہور سمیت مختلف شہروں میں دفاعی اور سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
لاہور کے علاقے مغلپورہ میں مشتعل مظاہرین نے پولیس کی متعدد گاڑیوں کو آگ کے حوالے کر دیا تھا اور سیکیورٹی اہلکاروں پر شدید پتھراؤ کیا تھا۔ اس جلاؤ گھیراؤ کے فوراً بعد پولیس نے انسدادِ دہشتگردی کی سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے پی ٹی آئی کی اس تمام مرکزی قیادت کو حراست میں لے لیا تھا، جو گزشتہ طویل عرصے سے کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں اور ان کے خلاف مختلف عدالتوں میں متعدد دیگر کیسز بھی زیرِ سماعت ہیں۔




