مظفر آباد ( کشمیر ڈیجیٹل )آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں مسلم لیگ (ن) نے ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے انتہائی غیر متوقع اور بڑے فیصلے کرتے ہوئے کئی سینیئر ترین رہنماؤں اور سیاسی برجوں کو ٹکٹ کی دوڑ سے باہر کر دیا ہے ۔
ٹکٹ سے محروم ہونے والوں میں سالارِ جمہوریت سردار سکندر حیات خان مرحوم کے فرزند فاروق سکندر، سینئرترین پارلیمینٹیرین ملک نواز، سینئرسیاستدان راجہ عبدالقیوم اور سابق وزیر مرتضیٰ گیلانی بھی شامل ہیں ۔
سابق سینئر وزیر اور قائم مقام وزیراعظم رہنے والے ملک محمد نواز کو بھی فی الحال ٹکٹ کی دوڑ سے باہر رکھا گیا ہے ، تاہم ذرائع کے مطابق ان کی راج محل حلقہ سے ٹکٹ ملنے کی اُمیدیں اب بھی برقرار ہیں ۔
ملک محمد نواز اس سے قبل ریکارڈ 7 مرتبہ رکنِ اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں اور حلقے کی سیاست پر گہری گرفت رکھتے ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پیپلزپارٹی کا بیانیہ مسترد،الیکشن میں تاخیر کسی صورت برداشت نہیں، ن لیگ
راجہ عبدالقیوم مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما ہیں جو 2011 اور 2021 میں ن لیگ کے ٹکٹ پر ہی الیکشن لڑ چکے ہیں اور متعدد بار رکنِ اسمبلی منتخب ہوئے، اس بار پارٹی قیادت کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے اور دوڑ سے باہر ہو گئے ۔
فاروق سکندر آزاد کشمیر کے دو مرتبہ وزیراعظم اور صدر رہنے والے سردار سکندر حیات خان کے فرزند اور سابق وزیر فاروق سکندر کو بھی اس بار پاکستان مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ جاری نہیں کیا گیا ۔
مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کے اس اچانک اور سخت فیصلے نے آزاد کشمیر کی مقامی سیاست بالخصوص مسلم لیگ (ن) کے اندرونی حلقوں میں ایک ہلچل مچا دی ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد حلقہ ایک کوٹلہ میں بڑی سیاسی ہلچل؛ درجنوں افراد مختلف جماعتیں چھوڑ کر ن لیگ میں شامل
ان سینئر رہنماؤں کو باہر کیے جانے کے بعد اب ان حلقوں میں نئے چہروں کو سامنے لائے جانے کا قوی امکان ہے ۔




