پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کی مرکزی و گلگت بلتستان کی قیادت اور استحکامِ پاکستان پارٹی کی مرکزی و گلگت بلتستان کی قیادت کے مابین ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں موجودہ سیاسی صورتحال، عوامی مسائل، صوبے کے مفادات اور حکومت سازی سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں جماعتوں کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق اجلاس کے دوران دونوں جماعتوں کے قائدین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ عوامی توقعات پر پورا اترنے، سیاسی استحکام کو فروغ دینے اور بہتر طرزِ حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے باہمی تعاون اور مشاورت ناگزیر ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گلگت بلتستان حکومت سازی، پیپلزپارٹی کو نئے اتحاد کی تلاش، پی ٹی آئی حمایت یافتہ ارکان سے رابطے
اس موقع پر حکومت سازی کے مختلف پہلوؤں، آئندہ کے سیاسی لائحۂ عمل اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق امور پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی۔
اجلاس کے اختتام پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ حکومت سازی سمیت تمام اہم سیاسی اور انتظامی معاملات دونوں جماعتوں کی مرکزی قیادت کی باہمی مشاورت، اتفاقِ رائے اور طے شدہ فیصلوں کے مطابق آگے بڑھائے جائیں گے۔
دونوں جماعتوں نے خطے کی ترقی، عوامی خدمت اور سیاسی استحکام کے لیے مشترکہ طور پر کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔
یاد رہے کہ پیپلزپارٹی گلگت بلتستان میں حکومت بنانے جا رہی ہے اور اس ملاقات کو اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ استحکام پاکستان پارٹی کے 4ارکان ہیں جبکہ پیپلزپارٹی کے 11ارکان ہیں ، سادہ اکثریت کیلئے 17ارکان ضروری ہے۔
دونوں جماعتوں کو مخصوص نشستیں الاٹ ہونی ہیں جس کے بعد ان دونوں جماعتوں کی نشستیں 17سے زائد ہو جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں:گلگت بلتستان میں ڈرامائی تبدیلی،4آزاد ارکان استحکام پارٹی میں شامل، مزید 2سیٹیں بھی ملنے کا امکان
گزشتہ دنوں پیپلزپارٹی کی طرف سے تحریک انصاف کےآزادارکان سے بھی رابطہ کیا گیا تھا لیکن ذرائع کے مطابق معاملات طے نہیں پا سکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی اور استحکام پاکستان پارٹی کے رہنمائوں کے مابین اتحاد کے ابتدائی فارمولے پر بات چیت ہوئی ہے اور یہ طے پایا ہے کہ دونوں پارٹیاں مل کر ہی حکومت بنائیں گی۔




