گلگت بلتستان میں عام انتخابات کے بعد حکومت سازی کا معاملہ دلچسپ مرحلے میں داخل ہوگیا ہے ،ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی نے پی ٹی آئی حمایت یافتہ 2آزادرکان اور ایم ڈبلیو ایم کے کاظم میثم سے رابطہ کر لیا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے 3حلقوں سے متعلق فیصلے سنا دیئے ہیں جس کے بعد نمبر گیم مکمل واضح ہو گئی ہے، چیف الیکشن کمشنر نےجی بی اے 17 تانگیر سے سابق وزیراعلیٰ حاجی گلبر خان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ملک کفایت کی جیت برقرار رکھی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی حکومت بنائےگی، ن لیگ نے اتفاق کرلیا
جی بی اے 16 دیامر ٹو سے پیپلز پارٹی کے امیدوار عطا اللہ ،جی بی اے 13 استور1 سے بھی مسلم لیگ ن کے امیدوار رانا فرمان کو فاتح قرار دیا گیا ہے ۔
یہ نتائج سامنے آنے پر گلگت بلتستان اسمبلی میںنمبر گیم واضح ہو گئی ہے جس کے مطابق پیپلزپارٹی11نشستوں کیساتھ سب سے بڑی پارٹی ہے اور مسلم لیگ(ن) 6نشستوں کیساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔
4آزادارکان جو اب استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہو چکے ہیں تیسرے نمبر پر ہیں جبکہ پی ٹی آئی حمایت یافتہ 2ارکان ہیں اور ایم ڈبلیو ایم کی ایک نشست ہے۔
پیپلزپارٹی کو سادہ اکثریت کیلئے 13نشستوں کی ضرورت ہے اور ذرائع کے مطابق جس کیلئے پی پی کی صوبائی قیادت نے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ارکان سید سہیل شاہ اور نیک کریم سے رابطہ کیا ہے جبکہ ایم ڈبلیو ایم کے کاظم میثم سے بھی رابطے کی اطلاعات ہیں۔
کاظم میثم کو بھی پی ٹی آئی کی حمایت حاصل تھی لیکن انہوں نے مجلس وحدت مسلمین کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:گلگت بلتستان میں حکومت سازی ونمبر گیم، رانا ثنااللہ نے بڑا دعویٰ کردیا
مسلم لیگ(ن) نےپی پی حکومت کوووٹ دینے کا اعلان کیا ہے لیکن پیپلزپارٹی مضبوط حکومت کرنے کیلئے پی ٹی آئی کے آزادارکان کو اپنے ساتھ ملانا چاہتی ہےتاکہ مسلم لیگ(ن) اور استحکام پاکستان پارٹی کو اپوزیشن میں رکھا جا سکے۔
آزادارکان حکومت میںشامل ہونے کیلئے ہی استحکام پاکستان پارٹی میںشام ہوئے ہیں،ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اگلے ایک دودنوں میں پیپلزپارٹی اور استحکام پاکستان پارٹی کی قیادت کے مابین ملاقات کا بھی امکان ہے۔




