وزیراعظم میاں شہبازشریف نے کہا ہے کہ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان تاریخی ’’اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت‘‘ پر الیکٹرانک طور پر دستخط ہو گئے ہیں۔ یادداشت پر دونوں ممالک کے معزز صدور نے دستخط کیے ہیں اور ثالث کے طور پر میں نے بھی اس کی توثیق کی ہے۔
ایک ٹویٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ متعلقہ حکومتوں کی اعلیٰ ترین سطح پر اس معاہدے پر دستخط تنازع کے سفارتی حل کے لیے فریقین کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ایم او یو فوری طور پر نافذ العمل ہو گا اور پہلے قدم کے طور پر اسلامی جمہوریہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گا اور امریکہ فوری طور پر بحری ناکہ بندی ختم کر دے گا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں امریکا کے صدر ڈونالڈ جے ٹرمپ کو اپنی دلی مبارکباد اور مخلصانہ تعریف پیش کرتا ہوں جن کی سفارت کاری کے لیے ثابت قدمی اور پرامن حل کی ترجیح نے ایک بار پھر ایک تنازعہ کو ختم کرنے میں مدد کی ہے جو خطے اور اس سے باہر کے لیے تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کامیابی میں ان کی انمول شراکت کے لیےمیں اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای اور صدر مسعود پیزشکیان کو امن کے مقصد کو اپنانے میں ان کی حکمت، دور اندیشی اور مدبرانہ صلاحیتوں کے لیے اپنے گہرے احترام اور قدردانی کا اظہار کرتا ہوں۔
I am honoured to announce that the historic ‘Islamabad Memorandum of Understanding’ has been electronically signed today between the United States of America and the Islamic Republic of Iran. The Memorandum has been signed by honourable Presidents of both the countries and also…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) June 18, 2026
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں امریکا کی مذاکراتی ٹیم کی لگن اور انتھک کوششوں کی بھی ستائش کرتا ہوں بشمول نائب صدر جے ڈی وینس ، وٹکوف ، جرڈ کشنزجنہوں نے اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہاکہ ایران کے سپیکر محمد باقر غالب، عباس عراقچی اور اسکندر مومنی سمیت ایرانی مذاکراتی ٹیم کی کوششوں کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ا ہوں، جن کے صبر، استقامت اور تعمیری مشغولیت کے عزم نے اس معاہدے کو عملی جامہ پہنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ خاص طور پر اس مقام تک پہنچنے میں مدد کرنے میں ریاست قطر کی قیادت کی مخلصانہ کوششوں اور تعمیری مصروفیات کا اعتراف کرنا چاہوں گا اور سعودی عرب، جمہوریہ ترکیہ اور عرب جمہوریہ مصر کی قیادت کو بھی اس سلسلے میں ان کے ناگزیر کردار اور انمول شراکت کے لیے سراہتا ہوں۔
وزیراعظم نے آخر میں کہا کہ میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا بھی خصوصی تذکرہ کرنا چاہوں گا جن کی انتھک کوششیں، بے لوث لگن اور اہم کردار اس پیش رفت کو آسان بنانے اور امن اور علاقائی استحکام کے مقصد کو آگے بڑھانے میں اہم تھا۔دعا ہے کہ یہ مفاہمت کی یادداشت پورے خطے کے لیے وسیع تر افہام و تفہیم، باہمی احترام اور مشترکہ خوشحالی کے لیے ایک پائیدار بنیاد کا کام کرے۔




