آزاد جموں و کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے دی جانے والی احتجاجی دھرنے کی کال بری طرح ناکام ہو گئی ہے۔ عوامی سطح پر اس کال کو مکمل طور پر مسترد کیے جانے کے بعد پنڈال مکمل خالی پڑا ہے، جو اس بات کا واضح اور بین ثبوت ہے کہ مقامی آبادی نے امن و ترقی کو ترجیح دیتے ہوئے انتشار کی سیاست کو یکسر رد کر دیا ہے۔
کشمیر ڈیجیٹل کی خصوصی ڈرون فوٹیج اور راولاکوٹ سے موصول ہونے والی تازہ ترین تصاویر میں پنڈال کے لائیو مناظر دیکھے جا سکتے ہیں جہاں مظاہرین کی عدم موجودگی اور خالی کرسیاں ایکشن کمیٹی کے دعووں کی قلعی کھول رہی ہیں۔ بنیادی حقوق کے نام پر لوگوں کو ورغلا کر راولاکوٹ لانے، عوامی ہجوم کے ذریعے ریاستی اداروں پر دباؤ ڈالنے اور نظام کو مفلوج کر کے ریاست کے خلاف محاذ کھڑا کرنے کے تمام عزائم بری طرح ناکام ہو چکے ہیں کیونکہ باشعور شہریوں نے احتجاجی کال کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے روزمرہ کی معاشی سرگرمیوں کو جاری رکھا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مظفرآباد اور کشمیر بھر میں معمولاتِ زندگی برقرار؛ہڑتال کی کال بری طرح ناکام، بازار اور دفاتر کھل گئے
دھرنے کے پنڈال کی حقیقت اور شرمناک ہتھکنڈے:
کشمیر ڈیجیٹل کو موصول ہونے والی تصاویر نے حقیقت کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے جس کے مطابق دھرنے کے مقام پر دن کے وقت کوئی بھی موجود نہیں ہوتا اور گراؤنڈ مکمل خالی پڑا رہتا ہے۔ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارندے دن کے وقت خواتین، بچوں اور بزرگوں کو اکٹھا کر کے تقریریں کر کے چھپ جاتے ہیں، جبکہ شام کے وقت محض کچھ وقت کے لیے ہی ان کے لوگ جمع ہوتے ہیں۔ اپنی ناکامی چھپانے کے لیے خواتین اور معصوم بچوں کو آگے بٹھا کر انہیں ڈھال کے طور پر استعمال کرنا ایک انتہائی شرمناک، غیر ذمہ دارانہ اور قابلِ مذمت عمل ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔
ریاست مخالف بیانیہ اور شہریوں کی ہراسگی:
جوں جوں عوام پر اس گروہ کی حقیقت آشکار ہوتی گئی اور ان کا ریاست مخالف و پاکستان مخالف بیانیہ سامنے آتا گیا، آزاد کشمیر کے باشعور، محبِ وطن اور ذمہ دار کشمیری عوام ان سے دور ہوتے گئے اور انہیں مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ دوسری جانب، اس کالعدم کمیٹی کے کارکنان مختلف علاقوں میں سرکاری اہلکاروں کو ہراساں کرنے، دھمکانے اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جس سے عام شہری شدید پریشانی اور بے چینی کا شکار ہیں؛ لہٰذا اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے عناصر کو مکمل طور پر رد کیا جائے جو پاکستان اور کشمیر کے لازوال رشتے کو کمزور کرنے، ریاست میں انتشار پھیلانے اور نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
راولاکوٹ اور دیگر شہروں میں کاروباری سرگرمیاں معمول پر:
تفصیلات کے مطابق، راولاکوٹ، دارالحکومت مظفرآباد، میرپور، کوٹلی اور دیگر تمام چھوٹے بڑے شہروں میں صبح سے ہی تمام تجارتی مراکز، شاپنگ مالز اور بازار روزمرہ کی طرح کھلے رہے۔ پبلک اور پرائیویٹ ٹرانسپورٹ سڑکوں پر گامزن ہے جبکہ سرکاری و نجی دفاتر اور تعلیمی اداروں میں بھی حاضری معمول کے مطابق دیکھی گئی ہے، جس نے ہڑتال کے دعووں کی قلعی کھول دی ہے اور کاروبار بلا تعطل جاری ہے۔
حساس مقامات پر سکیورٹی کے سخت انتظامات:
امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے راولاکوٹ اور دیگر حساس مقامات پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ تاہم، پُرامن ماحول کے باعث کہیں سے بھی کسی احتجاج، زبردستی دکانیں بند کرانے یا ہنگامہ آرائی کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی کیونکہ مقامی تاجر اور عام شہری خطے میں مزید کسی قسم کے انتشار یا معاشی نقصان کے حق میں نہیں ہیں، کیونکہ یہ خطہ کسی بھی نئی بدامنی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
انتظامیہ کا دوٹوک مؤقف اور شہریوں کا تحفظ:
ریاستی انتظامیہ نے آزاد کشمیر بھر میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ انتظامیہ نے واضح الفاظ میں الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے کی کسی بھی عنصر کو ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی اور پُرامن شہریوں کے جان و مال سمیت ان کے کاروبار کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا، کیونکہ ہر مسئلے کا حل صرف اور صرف پرامن مذاکرات سے ہی ممکن ہوسکتا ہے۔
مزید پڑھیں: حکومت اور کالعدم ایکشن کمیٹی کے مابین مذاکرات جاری، مثبت خبروں کا انتظار کریں: ترجمان وزیر اعظم




