oil price

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست کمی، پاکستان میں پٹرول سستا ہونے کی توقع

عالمی مارکیٹ سے پاکستانی عوام اور معاشی حلقوں کے لیے صبح صبح ایک انتہائی خوش آئند اور بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے عبوری معاہدے کی خبریں منظرِ عام پر آنے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اور نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے براہِ راست اثر کے طور پر پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خاطر خواہ اور بڑی کمی کی قوی توقع پیدا ہو گئی ہے۔

اس بڑی معاشی پیش رفت کو ملکی سطح پر مہنگائی کے دباؤ میں کمی اور پٹرولیم صارفین کے لیے ایک تاریخی ریلیف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر ہونے والی اس سفارتی و معاشی تبدیلی کے باعث پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں یکسر نیچے آنے کی گنجائش پیدا ہوئی ہے، جس کا حتمی فائدہ ملکی معیشت اور عام شہریوں کو منتقل ہونے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران امریکہ معاہدہ ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کی تازہ ترین صورتحال:

بین الاقوامی مارکیٹ میں جمعرات کے روز ابتدائی کاروبار کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت میں 89 سینٹ کی واضح کمی دیکھی گئی، جس کے بعد اس کی قیمت 78.66 ڈالر فی بیرل تک نیچے آ گئی۔ اسی طرح، امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت بھی 98 سینٹ کی کمی کے ساتھ 75.81 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ریکارڈ کی گئی ہے۔ معاشی ماہرین اور مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سیکامور کے مطابق، امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور عالمی مارکیٹ میں ایرانی تیل کی متوقع واپسی سے خام تیل کی فراہمی (supply) میں بڑے اضافے کا امکان ہے، جس کے باعث سرمایہ کار اپنی حکمتِ عملی تبدیل کر رہے ہیں اور قیمتوں پر دباؤ کم ہو رہا ہے۔

پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل 50 روپے تک سستا ہونے کا امکان:

عالمی قیمتوں میں ہونے والی اس زبردست گراوٹ کے بعد پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی توقعات عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں موجودہ سطح کے قریب برقرار رہتی ہیں اور روپے کی قدر میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آتی، تو پٹرول کی قیمت میں 30 سے 40 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 35 سے 50 روپے فی لیٹر تک کمی کی واضح اور بڑی گنجائش موجود ہے۔ معاشی حلقوں کے مطابق، اگر عالمی منڈی کا یہ رجحان برقرار رہتا ہے اور حکومت مکمل ریلیف صارفین تک منتقل کرنے کا فیصلہ کرتی ہے، تو آئندہ پندرہ روزہ قیمتوں میں پٹرولیم مصنوعات پر 30 سے 50 روپے فی لیٹر تک کا بڑا ریلیف سامنے آ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 100روپے فی لیٹر کمی کا امکان

اوگرا کی سفارشات اور حکومتی ٹیکس پالیسی:

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ حکومت ٹیکسوں اور پٹرولیم لیوی میں مناسب ردوبدل کر کے عوام کو عالمی منڈی میں ہونے والی اس کمی کا مزید فائدہ اور ریلیف بھی فراہم کر سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق، آئندہ پندرہ روزہ قیمتوں کے حتمی تعین کے لیے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اپنی باقاعدہ سفارشات تیار کر کے وزارتِ خزانہ کو ارسال کرے گا، جس کے بعد وزیراعظم کی مشاورت سے نئی قیمتوں کا باضابطہ اعلان متوقع ہے۔ تاہم، اس حتمی فیصلے اور پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا انحصار اوگرا کی سفارشات، ڈالر کی قدر، درآمدی لاگت اور حکومتی ٹیکس پالیسی پر ہوگا۔