پاکستانی فری لانسرز کا بڑا کارنامہ،ڈیجیٹل اکانومی میں نیا سنگ میل عبور کر لیا

ڈیجیٹل اکانومی میں نیا سنگ میل عبور کر لیا گیا ہے اور ملکی فری لانسرز نے زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاشی میدان میں تاریخ رقم کر دی ہے۔ سرکاری طور پر جاری کیے گئے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق، رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ کے دوران پاکستانی فری لانسرز نے مجموعی طور پر ایک ارب 60 کروڑ ڈالرز کا خطیر اور ریکارڈ زرمبادلہ حاصل کر کے ملکی معیشت کو ایک بہت بڑا سہارا فراہم کیا ہے۔

پاکستان بھر کے آئی ٹی ماہرین اور ڈیجیٹل سروسز فراہم کرنے والے نوجوانوں نے بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے اس شعبے کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ سرکاری سطح پر سامنے آنے والے یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ فری لانسنگ اب ملک میں روایتی برآمدات کی طرح ایک مضبوط اور مستحکم معاشی ستون بن چکی ہے، جس سے نہ صرف بے روزگاری میں کمی واقع ہو رہی ہے بلکہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی خاطر خواہ بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ڈیجیٹل انقلاب:پاکستان نے جرمنی، فرانس اور اسپین کو پیچھے چھوڑ دیا، عالمی انڈیکس میں 16واں نمبر

برآمدی آمدن میں ریکارڈ ساز اضافہ:

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں فری لانسرز کی برآمدی آمدن (export earnings) میں مجموعی طور پر 80 فیصد کا شاندار اور تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس غیر معمولی اور تیز رفتار نمو سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر پاکستانی فری لانسرز کی خدمات کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور وہ دنیا بھر کے کلائنٹس کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیابی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

ماہِ مئی کے شاندار اعداد و شمار:

سرکاری ڈیٹا میں مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ صرف مئی 2026 کے مہینے میں پاکستانی فری لانسرز کی ایکسپورٹ ارننگ 16 کروڑ 90 لاکھ ڈالرز تک پہنچ گئیں۔ اگر سالانہ بنیادوں پر اس کا موازنہ کیا جائے تو مئی کے مہینے میں سالانہ بنیاد پر فری لانسرز کی اس برآمدی آمدن میں 87 فیصد کا ریکارڈ توڑ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو ڈیجیٹل خدمات کے شعبے کی غیر معمولی ترقی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

مزید پڑھیں: ایران امریکہ جنگ بندی معاہدہ پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے: وزیر اعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور