امریکی و ایرانی صدور نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیئے،معاہدہ نافذالعمل ہوگیا

امریکی وایرانی صدور نے مفاہمتی یادداشت پردستخط کر دیئے ہیں جس کے بعد معاہدہ نافذالعمل ہو گیا ہے، ایرانی وزارت خارجہ اور وائٹ ہائوس نے دونوں صدور کی طرف سے دستخطوں کی تصدیق کردی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا حتمی متن طے پاگیا، دونوں فریقین نے الیکٹرانک دستخط کر دیئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:سعودی کابینہ کا امریکا، ایران معاہدہ کا خیر مقدم،پاکستان ،قطر کی کوششوں کو سراہا

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ معاہدے کے متن پر ایران اور امریکا کے صدور نے دستخط کیے ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی ملاقات معاہدے پر دستخط کے لیے نہیں، سوئٹزرلینڈ میں ملاقات ہوگی یا نہیں، اگلے چند گھنٹوں میں فیصلہ متوقع ہے‏۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ جنیوا میں مذاکراتی ٹیموں کی شرکت بدستور شیڈول کے مطابق رہے گی۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس حکام نے بھی تصدیق کردی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کردیئے ہیں۔

قبل ازیں ایک امریکی ویب سائٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور ایران نے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر مقررہ وقت سے پہلے ہی دستخط کر دیے ہیں، اور یہ معاہدہ اب نافذ العمل ہو چکا ہے۔

امریکا اور ایران کے صدور نے مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کیے ہیں۔

امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق معاہدے پر دستخط پہلے جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ہونا تھے، تاہم ایک ثالث ملک کے سفار تکار اور ایک دوسرے ذریعے نے بدھ کے روز بتایا کہ فریقین کے درمیان اس عمل کو پہلے مکمل کرنے اور جلد عملدرآمد شروع کرنے پر بات چیت جاری تھی۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکہ جنگ بندی معاہدہ پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے: وزیر اعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور

سفارتی ذریعے کے مطابق اس پیش رفت کا مقصد آبنائے ہرمز کو جلد از جلد کھولنا تھاکیونکہ دونوں فریق اس معاملے پر پہلے ہی متفق تھے۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں ایک وجہ وائٹ ہاؤس پر معاہدے کے متن کو جاری کرنے کے لیے بڑھتا ہوا سیاسی دباؤ بھی ہو سکتا ہے۔