سعودی کابینہ کا امریکا، ایران معاہدہ کا خیر مقدم،پاکستان ،قطر کی کوششوں کو سراہا

سعودی کابینہ نے منگل کو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی (فریڈم آف نیویگیشن) کو بحال رکھنے کی اہمیت کا پھر اعادہ کیا ہے جو 28فروری کو امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے آغاز سے پہلے تھی۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق کابینہ کا اجلاس ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارات جدہ میں ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اسحاق ڈار کا سعودی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال

اجلاس میں امریکہ اور ایران کے مابین فوجی کارروائیوں کے خاتمے اور ایک مستقل ایگریمنٹ تک پہنچنے کے لیے تفصیلی مذاکرات شروع کرنے کے معاہدے کا خیر مقدم کیا۔ اس حوالے سے پاکستان اور قطر کی ثالی کی کوششوں کو سراہا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔

کابینہ نے ایسے پائیدار امن کے قیام کی امید ظاہر کی جو خطے اور دنیا کے امن و سلامتی کو مضبوط بنائے، خطے کے ممالک کی سلامتی سے متعلق مفادات کو مدنظر رکھے اور ایکدوسرے کے داخلی امور میں عدم مداخلت کے اصول کا احترام کرے۔

اجلاس کے آغاز میں شرکا نے حج 1447 ہجری کی عظیم کامیابی اور منظم انتظامات پر رب کریم کا شکر ادا کیا، مملکت کی جانب سے حرمین شریفین کے مہمانوں کی خدمت کو اپنے لیے باعث اعزاز قرار دیا، جس کے تحت رواں برس 17 لاکھ سے زائد حجاج نے مکمل اطمینان اور سکون سے مناسک حج ادا کیے اور بحفاظت اپنے ملکوں کو روانہ ہوئے۔

اجلاس اقوام متحدہ کے تربیتی و تحقیقی ادارے کی جانب سے ریاض میں سائبر سکیورٹی سے متعلق اپنے پہلے خصوصی دفتر کے آغاز کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ مملکت اس شعبے میں علاقائی اور بین الاقوامی اداروں اور آرگنائزیشنز کی اہم منزل بن رہی ہے۔

وزیر مملکت، رکن کابینہ اور قائم مقام وزیر اطلاعات ڈاکٹر عصام بن سعد بن سعید نے بتایا کابینہ نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ماہرین کی جانب سے جاری بیان کا خیر مقدم کیا، جس میں سعودی معیشت کی مضبوطی اور علاقائی صورتحال کے باوجود اس کی استحکام کو سراہا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:سعودی حکومت کا تنخواہوں میں تاخیر پر متبادل طریقہ کار وضع

مملکت کی مضبوط اقتصادی بنیادیں، مستحکم مالی ذخائر، تیل اور لاجسٹک کے شعبوں کا متنوع ڈھانچہ اور سعودی وژن کے تحت جاری اصلاحات اس استحکام کی بنیاد ہیں۔

کابینہ نے انسانی صلاحیتوں کی بہتری کے لیے جاری پروگرام کی کامیابیوں کو بھی سراہا، جس نے تعلیم و تربیت کے نظام کو بہتر بنانے، سعودی افرادی قوت کی مقامی اورعالمی سطح پر مسابقتی صلاحیت کو بڑھانے، جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال کو وسعت دینے میں اہم کردار ادا کیا۔