یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے جسے ٹیبل ٹاک سے حل ہونا چاہیے، صدر سنٹرل بار راجہ ضیغم افتخار

آزاد کشمیر کی حالیہ احتجاجی اور سنگین صورتحال کے پیش نظر بار کونسل کی جانب سے فریقین کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لیے گرینڈ کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں بار کونسل کی تشکیل کردہ 16 رکنی وکلا کمیٹی کے کوآرڈینیٹر و صدر سنٹرل بار راجہ ضیغم افتخار ایڈووکیٹ اور جنرل سیکرٹری بار مرتضیٰ میر نے ایکشن کمیٹی کے زعما سے اہم ملاقات کے بعد مرکزی ایوانِ صحافت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے تازہ ترین صورتحال سے میڈیا کو آگاہ کیا۔

پریس کلب اور ڈسٹرکٹ بار کی مشترکہ کوششیں:

پریس کانفرنس کا آغاز کرتے ہوئے راجہ ضیغم افتخار نے پریس کلب کے عہدیداران کا شکریہ ادا کیا جن کے تعاون سے یہ بات آگے پہنچانے کا موقع ملا۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل 15 مئی کو بھی پریس کلب اور ہماری مشترکہ کوششوں سے ایک اہم اقدام لیا گیا تھا؛ چونکہ یہ ایک خالصتاً سیاسی مسئلہ ہے، اس لیے تمام معاملات دونوں فریقین کے درمیان ٹیبل ٹاک (مذاکرات) کے ذریعے ہی حل ہونے چاہئیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پریس کلب اور ڈسٹرکٹ بار کے مشکور ہیں جن کے وائس چیئرمین ریاض مغل نے یہ کمیٹی تشکیل دی، اور بار کونسل کی جانب سے دیے گئے باقاعدہ مینڈیٹ کے بعد مجھے مظفرآباد سے بطور کوآرڈینیٹر اس کمیٹی میں شامل کیا گیا تاکہ ہم جا کر فریقین سے بات چیت کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت اور کالعدم ایکشن کمیٹی کے مابین مذاکرات جاری، مثبت خبروں کا انتظار کریں: ترجمان وزیر اعظم

راولاکوٹ دھرنے کا دورہ اور مثبت پیش رفت:

وکلا رہنماؤں کا کہنا تھا کہ بہت دنوں سے چیزیں تعطل کا شکار تھیں، جس کے بعد ہم راولاکوٹ دھرنے کی طرف گئے جہاں دھرنے کے شرکاء اور عوام نے ہمیں انتہائی عزت دی جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں۔ وہاں ہمیں ایکشن کمیٹی کے ذمہ داران کے پاس لے جایا گیا، جہاں ہماری ان کے ساتھ ایک طویل نشست رہی؛ انہوں نے اپنے حالات بتائے اور ہم نے اپنی گزارشات پیش کیں۔ ہم نے ان پر زور دیا کہ معاملات کو ٹیبل ٹاک کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے، جس پر ان کی طرف سے ہمیں انتہائی مثبت جوابملا اور ہم وہاں سے کافی پُرومید ہو کر لوٹے ہیں۔

مظاہرین کا موقف اور نوٹیفکیشنز کی منسوخی کا مطالبہ:

راجہ ضیغم افتخار اور مرتضیٰ میر نے واضح کیا کہ پروٹیسٹرز کا مورال انتہائی بلند ہے اور وہ دھرنے کے ساتھ ساتھ پرامن مذاکرات کے خواہشمند ہیں، تاہم ان کا موقف ہے کہ مذاکرات کے آغاز سے قبل 5 جون سے پہلے کی پوزیشن بحال کی جائے اور اس عرصے میں ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے والے نوٹیفکیشن سمیت تمام دیگر جملہ انتظامی نوٹیفکیشنز فی الفور واپس (منسوخ) لیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ لوگ بھی یہی چاہتے ہیں کہ یہ معاملہ میز پر بیٹھ کر حل ہو۔ وکلا قیادت کا کہنا تھا کہ دھرنے کے ذمہ داران سے ہونے والی گفتگو میں سے کچھ باتیں ابھی قبل از وقت (Premature) ہیں جن کا ذکر ابھی میڈیا میں نہیں کیا جا سکتا، تاہم امید ہے کہ وہ مسائل بھی دور ہو جائیں گے اور انشااللہ بہت جلد ایک بڑا بریک تھرو سامنے آئے گا۔

دھرنے کے احوال اور انتظامیہ کا موقف:

دھرنے کی صورتحال بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ راولاکوٹ میں تین سے چار مقامات پر دھرنے جاری ہیں؛ راستوں کی بندش کے باوجود کمیٹی اور فورسز نے انہیں گائیڈ کیا اور رسائی دی۔ راولاکوٹ سے وہ امن اور لچک کا پیغام لے کر لوٹے ہیں ۔

مذاکرات میں مثبت پیش رفت اور متوقع بریک تھرو:
وکلا رہنماؤں نے پریس کانفرنس کے دوران ایک اور خوش آئند پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایک اچھی بات یہ ہے کہ اب دوسری طرف سے بھی برف پگھلنا شروع ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گورنمنٹ کی طرف سے بھی مذاکرات کی آفر موجود تھی اور اب دھرنا منتظمین کی طرف سے بھی کافی چیزیں مثبت سمت میں آگے بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہمارے وکلا ساتھی بات چیت کے لیے ابھی بھی وہاں راولاکوٹ میں موجود ہیں اور مسلسل رابطے میں ہیں۔ یہ ایک مکمل رابطہ کاری ہے جس کے نتائج ہمیں انتہائی مثبت لگ رہے ہیں اور انشااللہ آنے والے دنوں میں ایک بڑا اور مثبت بریک تھرو دیکھنے کو ملے گا۔