“کالعدم ایکشن کمیٹی کے تانے بانے انڈیا سے ملتے ہیں، کسی بھی انتشاری کو اب کوئی رعایت نہیں ملے گی” پاک فوج کا دو ٹوک مؤقف، منصور علی خان کے وی لاگ میں اہم انکشافات!

آزاد کشمیر کے حالیہ معاملات اور احتجاجی صورتحال پر پہلی بار عسکری قیادت کی جانب سے باقاعدہ لب کشائی کرتے ہوئے انتہائی سخت اور دو ٹوک مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔ گزشتہ روز راولپنڈی میں ہونے والی ایک اہم ترین سیکیورٹی بریفنگ کا احوال سامنے لاتے ہوئے معروف اینکر پرسن منصور علی خان نے اپنے تازہ ترین وی لاگ میں سنسنی خیز حقائق سے پردہ اٹھایا ہے۔

بریفنگ میں عسکری ذرائع نے واضح کیا ہے کہ ملکی امن و امان کو سبوتاژ کرنے والے شرپسند عناصر کے خلاف قانون پوری سختی سے حرکت میں آئے گا اور کسی بھی سطح پر کسی انتشاری کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔

کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) پر سنگین الزامات:

سیکیورٹی ذرائع نے بریفنگ میں اس بات پر سخت زور دیا ہے کہ پاکستان اور کشمیر کا تعلق اٹوٹ اور ناقابلِ تردید ہے۔ انہوں نے تاریخی حقائق کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ پاکستان کا پہلا “نشانِ حیدر” پانے والے شہید کا تعلق بھی کشمیر کی دھرتی سے ہے۔ عسکری ذرائع کا کہنا تھا کہ پاک فوج میں اس وقت تقریباً 40 فیصد جوان کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کشمیری اور پاکستان ایک دوسرے کا اہم حصہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہمارا مسئلہ وہاں کے غیور اور محبِ وطن عوام سے نہیں بلکہ خطے کا امن تباہ کرنے والے دہشت گرد عناصر اور ان کی رجیم سے ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مصدقہ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت، سیاسی قیادت اور ریاستی اداروں کے درمیان مکمل ہم آہنگی موجود ہے، کامران شاہد

بریفنگ کے دوران عسکری ذرائع نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی  کے حوالے سے انتہائی اہم انکشافات کیے۔ سیکیورٹی ذرائع کا دو ٹوک الفاظ میں کہنا تھا کہ کالعدم
سی (JAAC) کے تانے بانے اور ڈوریاں براہِ راست انڈیا سے ملتی ہیں اور اس کے پیچھے ملک دشمن قوتیں سرگرم ہیں۔ عسکری قیادت نے واضح اور سخت پیغام دیتے ہوئے الرٹ جاری کیا ہے کہ ملک کے امن و امان سے کھیلنے والے کسی بھی انتشاری یا شرپسند عنصر کو کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں دی جائے گی اور قانون پوری سختی سے اپنا راستہ بنائے گا۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ناکامی اور نام نہاد سبسڈیز:

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے دی جانے والی نام نہاد سبسڈیز وہاں کے غیور عوام کے آزادی کے جذبات کو ہرگز نہیں خرید سکتیں۔ بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ بھارت مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے لیے کالے قوانین نافذ کر رہا ہے، لیکن ایسے ہتھکنڈے وہاں کے مسلمانوں کے بنیادی حقِ خودارادیت کو کبھی ختم نہیں کر سکتے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر دنیا کی سب سے بڑی فوجی چھاؤنی بن چکا ہے جہاں کشمیریوں کی آواز کو طاقت کے زور پر دبایا جا رہا ہے۔

بھارت کی آزاد کشمیر میں آگ لگانے کی کوشش:

عسکری ذرائع نے بریفنگ کے دوران مودی حکومت کی بڑی سازش کو بے نقاب کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنی بدترین ناکامی اور مظالم کو دنیا کی نظروں سے چھپانے کے لیے تلملاہٹ کا شکار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مودی حکومت اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے اب آزاد کشمیر کے پرامن ماحول کو نشانہ بنا رہی ہے اور وہاں آگ لگانے کی مسلسل کوششیں کر رہی ہے، جسے کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

نام نہاد تحریک کے مذموم مقاصد اور حکومتی حکمتِ عملی:

سیکیورٹی ذرائع نے بریفنگ میں مزید واضح کیا کہ حقوق کے نام پر چلنے والی اس نام نہاد تحریک کے پیچھے چھپے مذموم مقاصد اور اس کا اصل چہرہ اب پوری طرح عیاں ہو چکا ہے۔ عسکری حکام کا کہنا تھا کہ پاکستان کی قیادت اور حکومت ہمیشہ جمہوری رویوں پر یقین رکھتی ہے، جس کی اولین ترجیح مسائل کو ہمیشہ ٹیبل ٹاک اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ 2 سال سے کشمیر میں مسلسل مذاکرات کیے گئے اور مظاہرین کی جانب سے جو بھی جائز سہولیات مانگی گئیں، وہ فراہم کی گئیں۔ تاہم، اب اس تحریک کی آڑ میں کام کرنے والے چھپے ہوئے شرپسند عناصر کو پوری طرح بھانپ لیا گیا ہے اور مظاہرین میں موجود ان مخصوص کرداروں کے اصل مقاصد کھل کر سامنے آ چکے ہیں، لہٰذا اب ان تخریبی عناصر سے قانون کے مطابق ہی سختی سے نمٹا جائے گا۔

حکومت آزاد کشمیر کا مصلحت پسندانہ رویہ اور جتھے کی جلاؤ گھیراؤ کی سیاست:

سیکیورٹی ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ حکومتِ آزاد جموں و کشمیر نے ہمیشہ مصلحت پسندانہ اور مثبت رویہ اختیار کرتے ہوئے عوامی ایکشن کمیٹی کو تمام مراحل میں ساتھ ملانے اور جوڑنے کی مخلصانہ کوشش کی، جبکہ اس کے برعکس عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنی روایتی فطرت کے مطابق جلاؤ گھیراؤ کا پرتشدد راستہ اپنایا اور عام عوام کو نفرت انگیز اور اشتعال انگیز اقدامات کی طرف راغب کیا۔ عوامی ایکشن کمیٹی نے سپریم کورٹ کے احکامات کو بھی پسِ پشت ڈال کر اشتعال انگیزی کی راہ ترک نہیں کی اور مسلسل ریاست مخالف جذبات کو ابھارا۔ بریفنگ میں مہاجرین کی 12 نشستوں کے حوالے سے دو ٹوک مؤقف اپنایا گیا کہ یہ سیٹیں آئین اور کشمیریوں کے حقِ خودارادیت سے جڑی ہوئی ہیں، لہٰذا کوئی بھی جتھہ یا مسلح گروہ زور زبردستی کی بنیاد پر اسے ختم نہیں کروا سکتا۔ ریاست کو اس بات پر کوئی ابہام نہیں ہے کہ ایسے اشتعال انگیز جتھے سے کس طرح نبٹنا ہے، اور اب کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی۔