راولاکوٹ احتجاج میں ملک دشمن ایجنڈا بے نقاب، سردار امان نے پاکستان کے خلاف زہر اگل دیا

آزاد جموں کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں جاری احتجاجی تحریک اس وقت ایک انتہائی حساس اور سنسنی خیز موڑ اختیار کر گئی ہے جب کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما امان کا ایک شدید پاکستان مخالف اور بھارت نواز بیانیہ منظرِ عام پر آیا ہے۔ حقوق کی آڑ میں جاری اس تحریک کے اسٹیج سے سامنے آنے والی اس زہر افشانی سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ وہ بطور بھارتی پراکسی آزاد خطے میں انتشار پھیلا رہے ہیں۔

اس بھارت نواز مؤقف کے سامنے آنے کے بعد مقامی انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، کیونکہ اس بیان نے ریاست کی سالمیت اور پاکستان کے ساتھ کشمیر کے تاریخی و نظریاتی رشتے پر براہِ راست ضرب لگائی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں اور عوامی حلقوں میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ حقوق کی آڑ میں شروع ہونے والی اس تحریک کے پیچھے اصل مقاصد کیا تھے اور اب بلی نہیں بلکہ اب بلا تھیلے سے باہر آگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: راولاکوٹ :کالعدم ایکشن کمیٹی میں موجود مسلح جتھوں کی پولیس اور سیکیورٹی اداروں پر براہِ راست فائرنگ کی ویڈیو منظرِ عام پر آگئی

پاکستان کی اربوں روپے کی سبسڈی مسترد:

راولاکوٹ میں ہونے والے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سردار امان نے تمام سفارتی اور اخلاقی حدیں پار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ہم پاکستان کے منہ پر مارتے ہیں سبسڈی، ہم جانیں بھارتی حکومت جانے اور ریاست کشمیر جانے۔ سردار امان کے اس اشتعال انگیز خطاب نے عوامی ایکشن کمیٹی کے دھرنوں اور مطالبات کے اصل چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے، جہاں انہوں نے پاکستان کی جانب سے دی جانے والی مالیاتی مراعات اور آٹے و بجلی پر اربوں روپے کی سبسڈی کو یکسر مسترد کرتے ہوئے نئی دہلی کی حکومت کے ساتھ براہِ راست تعلق کا کھل کر اعتراف کیا۔

عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کا پسِ منظر:

آزاد کشمیر میں گزشتہ کچھ عرصے سے بجلی کے بلوں اور آٹے کی قیمتوں میں کمی کے لیے عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے تھے۔ ان جائز مطالبات پر حکومتِ پاکستان نے ہمدردانہ غور کرتے ہوئے خطے کے عوام کے لیے اربوں روپے کے خصوصی فنڈز اور گرانٹس کی منظوری دی تھی تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔ تاہم ان جائز مطالبات کی آڑ میں کچھ شرپسند اور ریاست مخالف عناصر اپنے مخصوص اسٹریٹجک ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوششوں میں مصروف تھے، جس کی وجہ سے حکومت نے اس کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

مزید پڑھیں: کالعدم ایکشن کمیٹی کیخلاف 81مقدمات درج،425شرپسند گرفتار، آزادکشمیرپولیس

سرحد پار سے ڈوریاں ہلائے جانے کا انکشاف:

موجودہ سال 2026 میں، جب لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے دوسری طرف بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنے جابرانہ قبضے کو برقرار رکھنے کے لیے نت نئے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے، آزاد کشمیر کے اندر سے اس قسم کی آوازوں کا اٹھنا انتہائی تشویشناک سمجھا جا رہا ہے۔ سردار امان کا یہ اعتراف کہ ان کا معاملہ اب بھارتی حکومت کے ساتھ ہے، اس شک کو یقین میں بدل دیتا ہے کہ اس تحریک کی ڈوریاں سرحد پار سے ہلائی جا رہی تھیں تاکہ خطے کے امن عامہ کو سبوتاژ کیا جا سکے۔