مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے آزاد کشمیر کی موجودہ ہنگامی اور سیاسی صورتحال پر گہرے غور و خوض کے لیے کل لاہور میں ایک اہم ترین مشاورتی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ اس اہم بیٹھک میں مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کی اعلیٰ قیادت خصوصی طور پر شرکت کرے گی، جہاں موجودہ حالات کے تناظر میں بڑے اور اہم سیاسی فیصلوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
آزاد کشمیر میں حالیہ دنوں میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج اور پرتشدد کارروائیوں کے باعث پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نے مرکزی قیادت کو متحرک کر دیا ہے۔ ن لیگ کی قیادت اس نازک وقت میں سیاسی استحکام کو برقرار رکھنے اور خطے کی انتظامی و تنظیمی صورتحال کو سنبھالنے کے لیے سرجوڑ کر بیٹھ رہی ہے تاکہ مستقبل کے لیے ایک ٹھوس اور متفقہ لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا خصوصی اجلاس آج طلب،اہم بل پیش کیے جانے کا امکان
آزاد کشمیر کی اعلیٰ قیادت اور وفاقی وزرا کی شرکت:
ذرائع کے مطابق نواز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے اس اجلاس میں مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان، سینیئر رہنما طارق فاروق اور سابق وزیر اطلاعات مشتاق منہاس خصوصی طور پر شریک ہوں گے۔ اس کے علاوہ، وفاقی وزرا اور مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت کے دیگر کلیدی رہنماؤں کو بھی اس اہم مشاورتی نشست میں مدعو کیا گیا ہے تاکہ وفاق اور ریاست کے درمیان بہتر کوآرڈینیشن قائم کی جا سکے۔
اجلاس کا ایجنڈا اور آئندہ کی حکمت عملی:
بتایا جا رہا ہے کہ اجلاس میں آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی و امن و امان کی صورتحال، آئندہ کی سیاسی حکمت عملی، تنظیمی معاملات اور موجودہ حالات کے تناظر میں مسلم لیگ (ن) کے باقاعدہ مؤقف پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے بعد پیدا ہونے والی نئی سیاسی صورتحال اور مستقبل کے ممکنہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پارٹی گائیڈ لائنز طے کی جائیں گی۔
پارٹی تنظیم سازی اور سیاسی رابطوں پر مشاورت:
پارٹی ذرائع کے مطابق اس اہم مشاورتی بیٹھک میں آزاد کشمیر کی قیادت کو درپیش چیلنجز، دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ رابطوں، ن لیگ کی اپنی اندرونی تنظیم سازی اور آئندہ کے ممکنہ اقدامات پر بھی گہرائی سے مشاورت کی جائے گی۔ مختلف امور پر میاں نواز شریف اور مرکزی قیادت کی رہنمائی کی روشنی میں متفقہ اور حتمی فیصلوں کی توقع کی جا رہی ہے۔
سیاسی حلقوں اور مبصرین کی نظریں:
پورے ملک بالخصوص آزاد کشمیر کے سیاسی حلقوں کی نظریں اس وقت لاہور میں ہونے والے اس اہم اجلاس پر مرکوز ہو چکی ہیں، کیونکہ اس میں کیے جانے والے فیصلے آزاد کشمیر کی آئندہ کی سیاست پر گہرے اور دور رس اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، مسلم لیگ (ن) کی آئندہ کی سیاسی حکمت عملی، عوامی تحفظ اور ریاستی امور میں ان کے کردار کی سمت کا تعین بھی اسی مشاورتی نشست میں ہونے کا امکان ہے۔




