جنوبی امریکی ملک پیرو میں نازکا لائنز کی فضائی سیرکیلئے روانہ ہونے والا ایک چھوٹا سیاحتی طیارہ پرواز کے چند ہی لمحوں بعد گر کر تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام 13 افراد ہلاک ہوگئے۔
پولیس کے مطابق حادثہ ہفتے کی دوپہر مقامی وقت کے مطابق تقریباً ایک بجے اس وقت پیش آیا جب طیارہ لیما سے تقریباً 240 کلومیٹر جنوب میں واقع پسکو ایئرپورٹ سے روانہ ہوا۔ اڑان بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد طیارہ زمین پر آ گرا اور مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔
پولیس میجر جارج اینڈریڈ نے بتایا کہ حادثے میں 11 مسافر اور عملے کے 2 ارکان جان کی بازی ہار گئے۔ انہوں نے کہا کہ حادثہ اتنا شدید تھا کہ کسی بھی مسافر یا عملے کے رکن کے زندہ بچنے کی کوئی امید نہیں رہی جبکہ ریسکیو اہلکاروں نے ابتدائی کارروائی کے دوران ملبے سے4 لاشیں نکال لیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سان ڈیاگو:امریکی ایف 35بی لڑاکا طیارہ گر کر تباہ ،تحقیقات شروع
حادثے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ، پولیس اور دیگر امدادی اداروں کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور علاقے کو گھیرے میں لے کر امدادی اور تفتیشی کارروائیاں شروع کر دیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر میں طیارے کا ملبہ آگ کی لپیٹ میں دکھائی دیا، جبکہ امدادی اہلکار آگ پر قابو پانے اور شواہد محفوظ بنانے میں مصروف رہے۔
پیرو کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق فی الحال حادثے کی وجہ کا تعین نہیں ہوسکا، تاہم طیارے کی فنی حالت، موسم اور دیگر ممکنہ عوامل کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
پسکو ایئرپورٹ سے روزانہ متعدد چھوٹے طیارے نازکا لائنز کی فضائی سیر کے لیے پرواز کرتے ہیں۔ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل نازکا لائنز صحرائی میدان میں بنائے گئے دیوقامت اور پراسرار نقش و نگار پر مشتمل ہیں، جنہیں دیکھنے کے لیے ہر سال دنیا بھر سے ہزاروں سیاح پیرو کا رخ کرتے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بھارتی فضائیہ کا ایس یو30 جدیدجنگی طیارہ گر کر تباہ، ٹیمیں روانہ
نازکا لائنز کے قریب اس نوعیت کا یہ پہلا حادثہ نہیں ہے۔ 2022 میں بھی ایک سیاحتی طیارہ گرنے سے 7 افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ 2010 میں پیش آنیوالے ایک اور فضائی حادثے میں 4 برطانوی سیاحوں سمیت 6 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔




