ایران

معاہدےکا مطلب یہ نہیں کہ ہم جرائم بھول جائینگے یا معاف کردینگے، ایران

ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی نے تہران میں پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنے کا یہ مطلب بالکل نہیں ہے کہ ہم ان کے جرائم کو بھول گئے ہیں یا انہیں معاف کر دیا ہے ۔

ایرانی عوام پر امریکا اور اسرائیل نے جو مظالم ڈھائے ہیں، ہم انہیں کبھی نہیں بھولیں گے ۔ ہم نے اس دوران اپنی کئی اہم لیڈرز (قیادت) کو کھویا ہے لیکن عوام ہمیشہ اپنی قیادت کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی رہی ۔

انہوں نے گلہ کیا کہ عالمی ادارے ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مظالم کی مذمت کرنے میں ناکام رہے ۔ اب امریکا کو ایرانی عوام کا اعتماد دوبارہ جیتنے کے لیے بہت کچھ کرنا پڑے گا ۔

اسماعیل بقائی نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے (مفاہمتی یادداشت) کا طریقہ کار آج یا کل تک فائنل ہو جائے گا، جس کے بعد اس کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا ۔

اس معاہدے پر جمعے کے دن جنیوا میں دستخط ہوں گے ۔ دستخط کی اس تقریب سے پہلے ایرانی حکام پڑوسی ممالک کا دورہ بھی کریں گے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ایران امریکامعاہدہ، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا شاندارکردار پر پاکستان کو خراج تحسین

انہوں نے تاکید کی کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بند ہونی چاہیے اور لبنان کی آزادی و حدود کا احترام کیا جانا چاہیے، کیونکہ لبنان میں امن قائم کرنا بھی اس معاہدے کا ایک اہم حصہ ہے ۔

ترجمان نے واضح کیا کہ اس معاہدے کے تحت امریکا نے ایران کو نقصان کا ہرجانہ دینےاور ایران کے منجمد کئے گئے پیسے بحال کرنے کا وعدہ کیا ہے اور امریکا یہ وعدہ پورا کرنے کا پابند ہے ۔

انہوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ امریکا اپنی جیب سے کوئی پیسہ ایران کو نہیں دے رہا، بلکہ یہ منجمد اثاثے ایران کا اپنا حق ہیں۔ اس کے علاوہ ایران کو اپنا تیل اور کیمیکلز (پیٹروکیمیکل) دوسرے ملکوں کو بیچنے کی اجازت ہونی چاہیے ۔

اگر امریکا نے اپنے وعدے پورے نہ کیے تو ایران بھی اس کا بھرپور جواب دے گا۔ انہوں نے امریکا کو یاد دلایا کہ وہ پہلے بھی ایک بار ایران سے یورینیم نکالنے کی کوشش کر کے اس کا انجام دیکھ چکا ہے ۔

اسماعیل بقائی نے یہ بھی بتایا کہ ایران، عمان اور دیگر ملکوں کے ساتھ مل کر ‘آبنائے ہرمز کے سمندری راستے کو محفوظ بنانےکیلئے کام کرے گا ۔ اس راستے سے گزرنے والے جہازوں سے میری ٹائم سروس فیس (بحری ٹیکس) وصول کی جائے گی ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران معاہدہ پر الیکٹرانک دستخط ہو گئے،ٹرمپ کی تصدیق

ان کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ یہ ٹیکس ایک خاص وقت تک کے لیے ہوگا اور یہ اس بات پر منحصر ہے کہ امریکا اپنے وعدے اور ذمہ داریاں کس حد تک پوری کرتا ہے ۔