الیکٹرک موٹرسائیکلز، رکشوں، گاڑیوں پر کتنی سبسڈی ملے گی؟

اسلام آباد:وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ الیکٹرک موٹرسائیکل، رکشوں، گاڑیوں بس پر موجود رعایت کو برقرار رکھا گیا ہے۔

قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ درآمدی الیکٹرک ٹرکوں پر سیلز ٹیکس کی شرح ایک فیصد کم ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:وفاقی بجٹ2026: لگژری گاڑیوں، مہنگی الیکٹرک کار کی درآمد پر نیا ٹیکس عائد

انہوں نے کہا کہ 2 ہزار سے 3 ہزار سی سی تک تمام پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں پر ایف ای ڈی عائد کی گئی ہے جبکہ 2 کروڑ سے زائد مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر بھی ایف ای ڈی کا اطلاق ہوگا۔

بجٹ دستاویز کے مطابق وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 18ہزار 771ارب روپے ہوگا،سود کی ادائیگی پر 8ہزار 54ارب روپے مختص کرنے، پنشن پر مجموعی طور پر 1169ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ ہے جس میں ملٹری پنشن پر 822ارب روپے خرچ کرنے جبکہ سول پنشن پر 272ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ ہے۔

دفاع کے لیے 3ہزار ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے جبکہ سبسڈی کی مد میں 1091ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سستی ترین برانڈڈ الیکٹرک گاڑی بنگو ای وی کی قیمت میں لاکھوں روپے کی کمی

بجٹ دستاویز کے مطابق سول حکومت پر اخراجات کا تخمینہ 1071ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ ہے جبکہ ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 430ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے، مجموعی طور پر جاری اخراجات 17ہزار 495ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے۔

بجٹ دستاویز کے مطابق وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم 1050ارب ہوگا جبکہ ایف بی آر کا ٹیکس وصولی کا ہدف 15ہزار264ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے۔