سعد رفیق

خواجہ سعد رفیق نے کالعدم ایکشن کمیٹی کے رہنمائوں سےسوالات پوچھ لئے

 اسلام آباد:سابق وفاقی وزیر وسینئررہنما مسلم لیگ(ن) خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ یہ امر واضح رہنا چاہیے کہ آزاد جموں وکشمیر اسمبلی کا انتخاب لڑنے کیلئے نظریہ الحاق پاکستان کا حامی ہونےکی شق کسی قیمت پر ختم نہیں کی جا سکتی ہے۔

سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک پر کئی گئی پوسٹ میں خواجہ سعد رفیق نے واضح کیا کہ ایسا کوئی اقدام تحریک آزادی کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے مقبول ترین نعرے (ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہماراہے ) سے بے وفائی کے مترادف ہوگا۔پاکستان میں مقیم لاکھوں کشمیریوں کو مہاجرین جموں وکشمیر مقیم پاکستان کی نشستوں کا خاتمہ قطعاً قابل قبول نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: راولاکوٹ میں کالعدم ایکشن کمیٹی کے دھرنے ختم، سینئر صحافیوں کی تصدیق

انہوں نے کہا کہ معترض حلقوں کے تحفظات دور کرنے کیلئے آزاد جموں و کشمیر کی حدود میں اسمبلی نشستوں کی تعداد میں اضافہ کیا جا سکتا ہے یا پاکستان میں موجود نشستوں کی تعداد کو آزاد جموں وکشمیر کی کل آبادی کے حساب سے ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے ۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ دھرنے گھیراؤ جلاؤ اور تشدد مزید تشدد اور انارکی کو جنم دیتے ہیں، فورسز پر حملے ہوںیا مظاہرین پر تشدد دونوں غلط ہیں ،اپنے مطالبات کی منظوری کیلئے راستے بند کر کے اور شٹرڈاؤن کر کے مظفر آباد کا گھیراؤ کرنا کیوں ضروری تھا۔ ؟

سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ بات چیت ضرور ہونی چاہیے لیکن تحریک آزادی کشمیر کیلئے دی جانیوالی لازوال قربانیاں ضائع کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے

انہوں نے کہا کہ ایکشن کمیٹی کی قیادت وضاحت کرے کہ آزادکشمیر اسمبلی کا انتخاب لڑنے کیلئے الحاق ِ پاکستان کی شق ختم کرنیکا مطالبہ کیوں کیا۔ ؟

سعد رفیق نے دوسراسوال پوچھا کہ پاکستان میں مقیم لاکھوں مہاجرین ِ جموں و کشمیر میں کس ایڈریس پر اپنا ووٹ درج کروائیں۔ ؟

انہوں نے سوال اٹھا یا کہ ایکشن کمیٹی کی صفوں میں موجود خود مختار کشمیر کے حامی رہنما روز ِ اول سے کھلم کھلا اپنی تقریروں میں پاکستان کیخلاف بولتے ہیں، میں نےذاتی طور پر چند ماہ پہلے بذریعہ فون شوکت میر صاحب سے ان اشتعال انگیز تقاریر پر احتجاج کر چکا ہوں،انہوں نے اس ایشو کو حل کرنیکا وعدہ بھی کیا لیکن وہ یا انکی سوچ کے دیگر حامی انہیں روک نہیں سکے ۔

یہ بھی پڑھیں:کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا پرتشدد احتجاج ؛ شریک افراد کی نگرانی، فہرستیں مرتب کی جانے لگیں

سعد رفیق کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایسا کونسا جرم کیا ہے کہ کشمیریوں کے قاتل بھارت کو Bail Out کر کے پاکستان کو پاکستان کی سرزمین پر گالیاں دی جائیں۔ ؟

انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے جان و مال کے قاتل اور انکی آزادی کے غاصب ہندوستان کے خلاف اس ایکشن کمیٹی نے پاکستان کے اندر اور باہر آج تک کونسا احتجاج کیا ہے۔؟

سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ تنازعہ کشمیر پر پاک بھارت کے بیچ 3 جنگیں ہوچکی ہیں ، اس تنازعہ پر دو ایٹمی ملک ہروقت حالت جنگ میں رہتے ہیں، اسی مقصد کیلئے ایک پاکستان اپنے پیٹ کاٹ کر ایک طاقتور فوج تیار رکھتے ہیں ، افواج پاکستان لائن آف کنٹرول پر بھارتی افواج کا راستہ روکے کھڑی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہرسال پاکستانیوں کے ٹیکس دہندگان کے سیکڑوں ارب روپےآزادکشمیر کی تعمیر و ترقی پر خرچ کئے جاتے ہیں، آپ کو سارے ملک سے کہیں زیادہ سستی بجلی ملتی ہے،آٹا سب سے سستا ہے ، آپکو کاروبار ، تعلیم ، علاج معالجے کیلئے پورے ملک میں آزادانہ رسائی حاصل ہے اور یہ سب ہمارافرض ہے کوئی احسان نہیں ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:دھرنے ختم ،مظاہرین منتشر، احتجاجی مقامات کا کنٹرول پولیس اور رینجرز نے سنبھال لیا،کمشنر پونچھ

انہوں نے کہا کہ غربت ،پسماندگی ، معاشی نا انصافی تو پورے ملک کے مسائل ہیںکسی ایک خطے کے نہیں ہیں،پاکستان کی contribution کے بدلے بہتان لگانے اور نفرت انگیز تقسیم کرنیوالی تقاریر کرنیوالے کون ہیں ؟ کس کے ساتھی ہیں ؟ وہ کس کا کام کر رہے ہیں۔ ؟

سعد رفیق نے واضح کیا کہ پاکستان اورہندوستان کو ایک پلڑے میں تولنے والے ہم میں سے نہیں ہوسکتے ، ایکشن کمیٹی کی محب وطن قیادت اور اس کے حامیوںکو ان عناصر سے فاصلہ پیدا کرنا چاہئے تاکہ انہیں اپنے جائز مطالبات کے حل کیلئے پاکستان کی سیاسی اور نظریاتی قوتوں کی حمایت حاصل ہوسکے ۔