گلگت بلتستان انتخابات: بعض مقامات پر سیاسی کارکنوں میں جھڑپیں، ن لیگ اور پی پی حامی آمنے سامنے

گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل صبح 8 بجے سے بلا تعطل جاری ہے، تاہم گلگت اور دیگر ملحقہ علاقوں کے بعض پولنگ اسٹیشنز پر سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے مابین کشیدگی اور بدنظمی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان واقعات کے فوری بعد وہاں تعینات سیکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو مکمل طور پر قابو میں لے لیا اور انتخابی عمل کو رکنے نہیں دیا۔

انتخابی گہما گہمی کے دوران گلگت میں واقع سر سید اسکول پولنگ اسٹیشن کے باہر اس وقت شدید کشیدگی پھیل گئی جب پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے حامیوں کے درمیان کسی بات پر تلخ کلامی ہو گئی۔ بات بڑھتے بڑھتے ہاتھا پائی تک جا پہنچی، جس کے باعث ووٹرز میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پاک فوج، پولیس اور رینجرز کے دستے فوراً موقع پر پہنچے اور لاٹھی چارج کر کے ہجوم کو منتشر کیا۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اب وہاں امن و امان قائم ہے اور ووٹنگ دوبارہ پرامن طریقے سے جاری ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے جس تیزی سے صورتحال کو سنبھالا، اس سے بڑی بدامنی کا خطرہ ٹل گیا۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان انتخابات: پولنگ اسٹیشنز کے اندر موبائل فون اور ویڈیوز بنانے پر مکمل پابندی

حلقہ جی بی اے 9 سکردو میں کانٹے دار مقابلہ:

اسپیشل رپورٹ کے مطابق سکردو کے حلقہ جی بی اے 9 میں کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے جہاں مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں اور آزاد حیثیت میں مجموعی طور پر 8 امیدوار میدان میں ہیں۔ اس حلقے میں مجموعی طور پر 33 ہزار 649 رجسٹرڈ ووٹرز اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔ الیکشن حکام کی جانب سے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق حلقے میں مرد ووٹرز کی کل تعداد 17 ہزار 774 جبکہ خواتین ووٹرز کی کل تعداد 15 ہزار 875 ہے۔ ووٹرز کی سہولت کے لیے مجموعی طور پر 54 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔ ان پولنگ اسٹیشنز میں سے 12 صرف مردوں کے لیے، 12 صرف خواتین کے لیے جبکہ 30 مشترکہ (مکسڈ) پولنگ اسٹیشنز ہیں۔ لوکل ایڈمنسٹریشن نے سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر 54 میں سے 22 پولنگ اسٹیشنز کو ’انتہائی حساس‘ اور 4 کو ’حساس‘ قرار دے کر وہاں اضافی نفری تعینات کر دی ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ خطے میں سیاسی درجہ حرارت بہت زیادہ ہے۔

چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز خان کا بیان اور دورہ:

چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان نے انتخابی عمل کی خود نگرانی کرنے کے لیے مختلف پولنگ اسٹیشنز کا ہنگامی دورہ کیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے پولنگ کے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ صبح 8 بجے سے شروع ہونے والا عمل شام تک بغیر کسی بڑی رکاوٹ کے جاری رہے گا۔ انہوں نے خاص طور پر خواتین ووٹرز کی بڑی تعداد میں آمد اور ریکارڈ شراکت داری کو سراہتے ہوئے کہا کہ دور دراز علاقوں میں خواتین کا ووٹ ڈالنے کے لیے نکلنا گلگت بلتستان کے عوام کی سیاسی بیداری کا منہ بولتا ثبوت ہے اور یہ بتاتا ہے کہ معاشرہ اب روایتی جمود سے نکل کر جمہوری عمل کا حصہ بن رہا ہے۔ راجا شہباز خان نے عوام سے پرزور اپیل کی کہ ‘عوام کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی کا حصہ نہ بنیں، نظم و ضبط برقرار رکھیں اور ایک ذمہ دار شہری کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے ووٹ کا حق ضرور استعمال کریں۔ الیکشن کمیشن شفاف اور آزادانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔’

مزید پڑھیں: گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل شروع

انتخابات کی جغرافیائی و سیاسی اہمیت:

گلگت بلتستان کی جغرافیائی اور سیاسی اہمیت کے باعث یہ انتخابات ہمیشہ ہی ملک گیر توجہ کا مرکز بنتے ہیں، جہاں ماضی میں بھی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان سخت سیاسی حریفانہ ماحول رہا ہے۔ سکردو کا حلقہ 3 اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ یہاں مقامی برادریوں کے اثر و رسوخ کے ساتھ ساتھ مرکزی جماعتوں کا بیانیہ بھی ووٹرز پر اثر انداز ہوتا ہے۔ 8 امیدواروں کی موجودگی یہ بھی واضح کرتی ہے کہ ووٹ کسی ایک یا دو جماعتوں کے مابین تقسیم نہیں ہو رہا بلکہ آزاد امیدوار بھی روایتی جماعتوں کے لیے بڑا سرپرائز ثابت ہو سکتے ہیں۔ سرد موسم اور دشوار گزار راستوں کے باوجود ووٹرز کا جوش و خروش یہ ثابت کرتا ہے کہ خطے کے لوگ اپنے جمہوری حق کے ذریعے مقامی حکومت کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔