سابق وفاقی وزیر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے موجودہ حالات کو بیڈ گورننس، سیاسی جماعتوں کی نالائقی، حکومتیں بنانے اور گرانے کے لیے ریاستی اداروں کی بے جا مداخلت اور علیحدگی پسند سوچ کے حامیوں کی دیرینہ کوششوں کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے اکثر و بیشتر مطالبات پہلے ہی منظور کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حالیہ مذاکرات کے دوران بھی وفاق کی جانب سے مقرر کردہ کمیٹی بقیہ مطالبات پر بہت زیادہ لچک دکھا چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں جب مذاکرات کے ذریعے مسائل حل ہو رہے ہوں، مزید تصادم کی راہ اختیار کرنا درست نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی، چوٹی کے بھارتی صحافی پاکستان کے خلاف بھونکناشروع
سابق وفاقی وزیر نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کے طول و عرض میں قیام پذیر لاکھوں مہاجرین آزاد جموں و کشمیر ایک حقیقت ہیں، اور اسی طرح بعض امیدواران کی جانب سے بنائے گئے جعلی ووٹ بھی ایک حقیقت ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ان جعلی ووٹوں کا خاتمہ قانونی عمل کے ذریعے باآسانی ممکن تھا اور اب بھی ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کے ووٹرز کی کل تعداد کے تناسب سے مہاجرین مقیم پاکستان کی نشستوں کی تعداد کا ازسرنو تعین ہی اس مسئلے کا واحد جمہوری اور پرامن حل تھا۔
مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما نے موقف اختیار کیا کہ عوامی ایکشن کمیٹی انتخابات میں حصہ لے کر نہ صرف یہ جعلی ووٹ کٹوا سکتی ہے، بلکہ اپنے بقیہ مطالبات کے لیے انتخابات جیت کر مطلوبہ آئینی و قانونی قوت بھی حاصل کر سکتی ہے۔ چنانچہ انتخابات کے ذریعے عوامی مینڈیٹ حاصل کرنے کے بجائے لاک ڈاؤن اور سٹریٹ پاور کا استعمال کر کے انتشار اور افراتفری پیدا کرنا انتہائی نامناسب عمل ہے۔
مزید پڑھیں: ایکشن کمیٹی کے کور ممبر راجہ امجد ایڈووکیٹ کی گمشدگی کی خبر ڈھکوسلا نکلی،گھر پر آرام فرما رہا تھا، ویڈیو پیغام جاری
انہوں نے خبردار کیا کہ تصادم کی صورتحال پیدا کرنا صرف پاکستان اور کشمیریوں کے دشمنوں کو فائدہ پہنچائے گا۔ خواجہ سعد رفیق نے عوامی ایکشن کمیٹی سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ گھیراؤ جلاؤ کا راستہ اختیار نہ کریں، کیونکہ یہ عمل نفرتوں، فاصلوں اور کدورتوں میں اضافے کا باعث بنے گا۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ بزورِ بازو یا زبردستی الیکشن رکوانے کے بجائے انتخابی اصلاحات کروائی جائیں اور عوامی مینڈیٹ لے کر اپنے بقیہ مطالبات منوانے کی راہ اختیار کی جائے۔




