جموں وکشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد کئے جانے پر بھارتی صحافیوں سے پاکستان کیخلاف زہر اگلنا شروع کردیا۔
بھارتی صحافی آدتیہ راج کول نے جموں وکشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے پر نوٹیفکیشن پوسٹ کرکے پاکستان کیخلاف زہر اگلا اور بے بنیاد دعوے کئے۔
آزاد جموں و کشمیر میں جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا حلقوں میں پاکستان کے خلاف بیانات اور تبصروں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ متعدد بھارتی صحافیوں اور تجزیہ کاروں نے اس فیصلے کو بنیاد بنا کر پاکستان کے خلاف مختلف الزامات عائد کیے جو بلکل بے بنیاد ہیں ۔
یہ بھی پڑھیں:ریاست مخالف سرگرمیاں، عوامی ایکشن کمیٹی پر ہمیشہ کیلئے پابندی عائد
بھارتی میڈیا نے ہمیشہ حقائق کے منافی رپورٹنگ کی اور پاکستان پر الزام تراشی کی روش کو اپنایا ، بھارتی صحافیوں کا غیر ذمہ دارانہ رویہ اور جھوٹا پروپیگینڈہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ۔
پابندی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر لگی ہے اور ان کی حمایت میں بھارتی راء کے اکاؤنٹس بول رہے ہیں،ایسا کیوں ہے؟اس سے سوال اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ ریاست کا موقف تو درست ثابت ہوا ہے کہ یہ اینٹی ریاست سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور بھارتی ایجنڈے کی تکمیل کررہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر جاری بحث کے دوران پاکستانی صارفین کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ جس تنظیم کے خلاف ریاستی سطح پر کارروائی کی گئی ہے اس کے حق میں سب سے زیادہ آوازیں بھارتی صحافیوں، تجزیہ کاروں اور پاکستان مخالف بیانیہ رکھنے والے اکاؤنٹس کی جانب سے کیوں سامنے آ رہی ہیں۔





