وفاقی حکومت کی جانب سے ملک بھر کے عوام کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے ملے جلے فیصلے سامنے آئے ہیں۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے مٹی کے تیل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے بعد غریب اور پسماندہ طبقے کی مشکلات میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
مٹی کے تیل کی قیمت میں بڑا اضافہ اور نئی قیمت کا اطلاق:
اوگرا کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 8.70 روپے فی لیٹر کا بڑا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس بھاری اضافے کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 272 روپے سے بڑھ کر 280.70 روپے فی لیٹر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ حکومت اور اوگرا کی جانب سے مٹی کے تیل کی ان نئی اور بڑھی ہوئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر آج سے ہی پورے ملک میں کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے کمی،نوٹیفکیشن جاری،ڈیزل کی قیمت برقرار
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا موازنہ اور موجودہ صورتحال:
دوسری جانب، حکومت نے ہفتہ وار بنیادوں پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر نظرثانی کرتے ہوئے پٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے، جس سے موٹر سائیکل اور گاڑی مالکان کو جزوی ریلیف ملا ہے۔ تاہم، عوام کی دوسری بڑی ضرورت یعنی ڈیزل کی قیمت میں اس بار کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور اسے پرانی سطح پر ہی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس طرح ایک طرف پٹرول سستا کر کے ریلیف دینے کی کوشش کی گئی ہے تو دوسری طرف مٹی کا تیل مہنگا کر کے غریب ترین طبقے پر بوجھ بڑھا دیا گیا ہے۔ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین اب بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل اور ریفائنڈ پروڈکٹس کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے مطابق ہفتہ وار یا 15 روزہ بنیادوں پر کیا جاتا ہے۔
پسماندہ علاقوں پر اثرات اور مٹی کے تیل کی قیمت بڑھنے کی وجوہات:
مٹی کا تیل بنیادی طور پر ملک کے ان پسماندہ اور دور دراز دیہی علاقوں میں کھانا پکانے اور روشنی کے لیے استعمال ہوتا ہے جہاں سوئی گیس کی سہولت سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ ماضی میں حکومت مٹی کے تیل پر سبسڈی برقرار رکھتی تھی تاکہ غریب طبقے کو معاشی تحفظ دیا جا سکے، لیکن حالیہ معاشی اصلاحات اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے مطالبات کے باعث اب اس کی قیمت کو بھی مارکیٹ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، جس کے باعث اس کی قیمت 280 روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں مٹی کے تیل (کیروسین آئل) کے درآمدی نرخوں میں اضافے اور مقامی سطح پر فریٹ مارجنز کے باعث یہ اضافہ ناگزیر تھا، جس کے بعد اب تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور فلنگ اسٹیشنز کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر مٹی کے تیل کے نئے نرخ نامے آویزاں کریں۔
مزید پڑھیں: مٹی کا تیل، لائٹ ڈیزل اور جہازوں کا ایندھن بھی مہنگا ہو گیا
تاجر برادری اور کاروباری حلقوں کا ردعمل:
دیہی علاقوں کے تاجروں کا کہنا ہے کہ مٹی کا تیل مہنگا ہونے سے اب لکڑی اور ایل پی جی سلنڈر پر دباؤ مزید بڑھے گا، کیونکہ غریب خاندانوں کے لیے اب 280.70 روپے فی لیٹر مٹی کا تیل خریدنا ان کے محدود بجٹ سے بالکل باہر ہوتا جا رہا ہے۔ دوسری طرف، پٹرول کی قیمت میں 4 روپے کی کمی کو کاروباری حلقے خوش آئند قرار دے رہے ہیں لیکن ان کا ساتھ ہی یہ بھی کہنا ہے کہ ڈیزل کی قیمت مستحکم اور برقرار رہنے سے ملک میں مال برداری کے کرایوں میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں آئے گی۔



