آزاد کشمیر

ایڈہاک ایکٹ معطل: سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں کی سماعت 28 جولائی کو مقرر

آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی جانب سے ایڈہاک، عارضی اور کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے سے متعلق بنائے گئے ‘ایڈہاک ایکٹ 2026’ کو معطل کیے جانے کے بعد یہ اہم اور حساس معاملہ اب سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ سپریم کورٹ میں دائر کردہ اپیلوں اور آئینی درخواستوں پر ابتدائی سماعت کے بعد کیسز کی مزید کارروائی کے لیے 28 جولائی 2026 کی تاریخ مقرر کر دی گئی ہے۔

سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس رضا علی خان نے مقدمات کی سماعت کے لیے 28 جولائی کی تاریخ طے کرنے کے باقاعدہ احکامات جاری کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایڈہاک ایکٹ 2026 کی معطلی سپریم کورٹ میں چیلنج، کل اہم سماعت متوقع

ہائی کورٹ کا حکمِ امتناعی اور سپریم کورٹ میں اپیلیں:

آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے ایڈہاک ایکٹ 2026 کے تحت ملازمین کی ریگولائزیشن کے تمام عمل کے خلاف حکمِ امتناعی جاری کرتے ہوئے ایکٹ کو معطل کر دیا تھا۔ اس فیصلے سے متاثر ہونے والے ہزاروں ایڈہاک، عارضی اور کنٹریکٹ ملازمین نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے عدالتِ عظمیٰ (سپریم کورٹ) سے رجوع کیا ہے۔

اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے متاثرہ ملازمین کی جانب سے مزید درخواستیں بھی سپریم کورٹ میں دائر کی جا رہی ہیں، تاکہ ہائی کورٹ کے حکمِ امتناعی کو ختم کرایا جا سکے۔

قانونی ٹیم اور ہزاروں ملازمین کا مستقبل:

سپریم کورٹ میں متاثرہ ملازمین کی جانب سے معروف قانونی ماہرین راجہ ضیغم افتخار ایڈووکیٹ اور ہارون ریاض مغل ایڈووکیٹ مقدمات کی پیروی کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے سپریم کورٹ آزادکشمیر کے وفد کی اہم ملاقات

واضح رہے کہ ایڈہاک ایکٹ 2026 کے تحت آزاد کشمیر کے مختلف سرکاری شعبوں میں کام کرنے والے ہزاروں ایڈہاک، عارضی اور کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیا جانا تھا۔ تاہم ہائی کورٹ کی جانب سے ایکٹ پر روک لگائے جانے کے بعد ہزاروں ملازمین کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے اور اب تمام تر نظریں 28 جولائی کو سپریم کورٹ میں ہونے والی اہم سماعت پر ٹکی ہوئی ہیں۔