سپریم کورٹ

مظفرآباد:مہاجرین کی 12 نشستوں سے متعلق ریفرنس کی سماعت کل تک ملتوی

مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)سپریم کورٹ آف آزاد کشمیر میں مہاجرین کی 12 مخصوص نشستوں سے متعلق آئینی ریفرنس کی ابتدائی سماعت ہوئی، جس کے دوران عدالت نے اہم سیاسی و آئینی شخصیات اور اداروں سے تجاویز طلب کرنے کیلئے نوٹس جاری کر دیے۔ سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی ۔

یہ مقدمہ چیف جسٹس سپریم کورٹ آزاد کشمیر جسٹس سعید اکرم راجہ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سنا، جس میں جسٹس خالد رشید چوہدری بھی شامل تھے ۔

ابتدائی سماعت کے دوران عدالت نے معاملے کی نوعیت کو اہم آئینی و انتخابی سوال قرار دیتے ہوئے مختلف فریقین سے تفصیلی رائے طلب کرنے کا فیصلہ کیا ۔

حکومت آزاد کشمیر نے گزشتہ روز یہ ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا، جس کا مقصد مہاجرین کی مخصوص 12 نشستوں کے حوالے سے آئینی اور قانونی وضاحت حاصل کرنا ہے ۔

یہ نشستیں آزاد کشمیر اسمبلی میں اُن کشمیری مہاجرین کی نمائندگی کے لیے مختص ہیں جو پاکستان کے مختلف علاقوں میں آباد ہیں ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:مہاجرین نشستوں کیخلاف مہم،سیاست یا سازش؟ سینئر صحافی نے حقائق بتا دیئے

عدالتی کارروائی کے دوران قائد ایوان، قائد حزب اختلاف، اسمبلی کے اراکین، مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور بار ایسوسی ایشنز کو نوٹس جاری کیے گئے تاکہ وہ اس معاملے پر اپنی آئینی و قانونی تجاویز عدالت کے سامنے پیش کر سکیں ۔

ماہرین کے مطابق یہ ریفرنس عام طور پر اُن آئینی معاملات میں دائر کیا جاتا ہے جن میں انتخابی حلقہ بندی، نشستوں کی تقسیم یا کوٹہ سسٹم سے متعلق ابہام موجود ہو۔

عدالت اس نوعیت کے مقدمات میں یہ طے کرتی ہے کہ آیا موجودہ انتخابی ڈھانچہ آئین اور قانون کے مطابق ہے یا اس میں کسی ترمیم یا وضاحت کی ضرورت ہے ۔

سماعت کے دوران عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ مہاجرین نشستوں کے نظام کا جائزہ آئینی اصولوں، نمائندگی کے تقاضوں اور موجودہ سیاسی و انتخابی حقائق کی روشنی میں لیا جائے گا ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:مہاجرین کی 12 نشستوں کا معاملہ، مریم نواز یا بلاول بھٹوکا دورہ آزادکشمیرمتوقع

مزید سماعت کل تک ملتوی کرتے ہوئے عدالت نے فریقین کو ہدایت کی کہ وہ اپنی تحریری آراء جلد جمع کرائیں ۔