لاہور: پاکستان ون ڈے ٹیم کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے آسٹریلیا کیخلاف سیریز میں کامیابی کے بعد کہا کہ ہوم کنڈیشنز میں ہر ٹیم اپنی حکمت عملی کے مطابق پچز تیار کرتی ہے اور پاکستان نے بھی سیریز جیتنے کیلئے اسی منصوبہ بندی کے تحت میدان میں اتر کر کامیابی حاصل کی ۔
انہوں نے کہا کہ سیریز کے دوران استعمال ہونے والی پچز آسان نہیں تھیں اور ان پر بیٹنگ کرنا کھلاڑیوں کے لیے ایک چیلنج ثابت ہوا۔
پاکستان نے جمعرات کو کھیلے گئے تیسرے اور فیصلہ کن ون ڈے میچ میں آسٹریلیا کو 4 وکٹوں سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز 1-2 سے اپنے نام کی ۔
قومی ٹیم نے 158 رنز کا ہدف 42ویں اوور میں حاصل کرتے ہوئے سیریز میں فتح سمیٹی اور شائقین کرکٹ کو خوشی کا موقع فراہم کیا ۔
میچ کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہین آفریدی نے مستقبل کی منصوبہ بندی اور ورلڈ کپ سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگلے عالمی کپ میں ابھی کافی وقت باقی ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ڈائمنڈ جوبلی ٹورنامنٹ ،قومی فٹبال ٹیم نے بڑی کامیابی حاصل کرلی
اس لیے اس مرحلے پر کسی حتمی رائے یا پیش گوئی کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق ٹیم مسلسل بہتری کے عمل سے گزر رہی ہے اور وقت کے ساتھ مزید مثبت نتائج سامنے آئیں گے ۔
قومی ٹیم کے کپتان نے اسکواڈ میں محدود تبدیلیوں کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم انتظامیہ کی کوشش تھی کہ کھلاڑیوں کو مسلسل مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اعتماد کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکیں ۔
انہوں نے کہا کہ بار بار تبدیلیاں کرنے سے کھلاڑیوں کی کارکردگی متاثر ہوسکتی ہے، اسی لیے زیادہ تر کھلاڑیوں پر اعتماد برقرار رکھا گیا ۔
شاہین آفریدی نے آل راؤنڈر شاداب خان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ان پر تنقید ضرور ہوئی، تاہم انہوں نے دباؤ کے باوجود کنٹرول کیساتھ بولنگ کی اور ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان نے آسٹریلیا کو شکست دیکر ون ڈے سیریز اپنے نام کرلی
فاسٹ بولنگ کمبی نیشن کے حوالے سے ا ن کا مزید کہنا تھا کہ دو فاسٹ بولرزکیساتھ کھیلنے کے فیصلے میں حارث رؤف بہتر انتخاب محسوس ہوئے جبکہ سینئر کھلاڑی بھی اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہیں مزید وقت اور اعتماد دیا جانا چاہیے ۔



