لندن: ہالسٹک ہیلتھ اور متبادل طریقہ علاج سے لگاؤ رکھنے والی مرحومہ لیڈی ڈائنا کی زندگی کا ایک ایسا انوکھا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے کینسنگٹن پیلس (شاہی محل) میں سنسنی پھیلانے کے ساتھ ساتھ ان کی معالج کو شدید پینک اٹیک میں مبتلا کر دیا تھا۔ اس انوکھے واقعے کا انکشاف شہزادی ڈائنا کے سابق بٹلر پال بوریل نے اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب “A Royal Duty” میں کیا ہے۔
کینسنگٹن پیلس میں ہنگامی کال اور سوئی کی تلاش:
سابق شاہی بٹلر پال بوریل کے مطابق، یہ ڈرامائی صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب شہزادی ڈائنا ایکو پنکچر (سوئیوں کے ذریعے علاج) کے سیشن کے بعد محل واپس لوٹیں۔ پرسکون ماحول کے برعکس، پال بوریل کو شہزادی کی معالج کی طرف سے ایک انتہائی گھبرائی ہوئی فون کال موصول ہوئی، جس میں معالج نے روتے ہوئے کہا کہ اس کے پاس ایک سوئی کم ہے اور اسے شبہ ہے کہ وہ سوئی شہزادی ڈائنا کے سر میں ہی بھول آئی ہے۔ یہ سن کر بٹلر خوفزدہ ہو گیا اور وہ فوراً اوپر کی منزل کی طرف بھاگا تاکہ یہ دیکھ سکے کہ کہیں واقعی لیڈی ڈائنا کے سر سے کوئی سوئی باہر تو نہیں نکل رہی۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی ریڈیو نے غلطی سے شاہ چارلس کی وفات کی خبر نشر کر دی، کمپیوٹر خرابی پر معذرت
شہزادی ڈائنا کا قہقہہ اور معالج کی جان میں جان:
جب بٹلر نے گھبراتے ہوئے شہزادی کو بتایا کہ شاید ان کے سر میں ایکو پنکچر کی سوئی رہ گئی ہے، تو لیڈی ڈائنا نے گھبرانے کے بجائے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور زور دار قہقہہ لگایا۔ اس پریشان کن صورتحال پر پینک ہونے کے بجائے انہوں نے ہنستے ہوئے اپنے بٹلر سے کہا کہ “اس بیچاری خاتون کی پریشانی ختم کرو اور اسے بتاؤ کہ میں بالکل ٹھیک ہوں، بلکہ اس سے دوبارہ مل کر مجھے زیادہ اچھا محسوس ہو رہا ہے”۔ پال بوریل نے لکھا کہ متبادل علاج کے دوران ایسے چھوٹے موٹے واقعات کے باوجود شہزادی ڈائنا ہمیشہ مزاحیہ پہلو تلاش کر لیتی تھیں، جو ان کی عام فہم اور خوش مزاج شخصیت کا عکاس ہے۔




