سکیورٹی فورسز

شمالی وزیرستان میں بڑی تباہی کا منصوبہ ناکام ،سیکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی، خودکش حملہ آور ہلاک

خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز اور حساس اداروں نے ایک انتہائی منظم، مربوط اور کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران دہشت گردی کا ایک بڑا اور ہولناک منصوبہ بری طرح ناکام بنا دیا ہے۔ فورسز کی چوکسی اور بروقت کارروائی کی بدولت بنوں اور شمالی وزیرستان کا سرحدی علاقہ ایک بہت بڑی تباہی اور خونی المیے سے محفوظ رہا ہے۔

اعلیٰ سیکیورٹی ذرائع کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق بنوں میرانشاہ روڈ پر واقع ’اسلم کھاسادر پوسٹ 7 ڈویژن‘ کے قریب سیکیورٹی فورسز نے ایک مشکوک خودکش بمبار کو ہدف کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا۔ فورسز نے انتہائی چستی اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملہ آور کو فوری طور پر گھیر لیا۔ سیکیورٹی فورسز کا شدید دباؤ سامنے دیکھ کر خودکش بمبار شدید گھبراہٹ اور بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا اور اس نے اپنے اصل ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی راستے میں خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ :جعفر ایکسپریس کے قریب شدید دھماکہ، سیکیورٹی اداروں کی مستعدی سے ٹرین بڑے سانحے سے بچ گئی

پیشگی انٹیلی جنس معلومات اور فورسز کا ہائی الرٹ:

اعلیٰ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو بنوں میں ایک ممکنہ خودکش حملے کی خفیہ اطلاعات پہلے ہی موصول ہو چکی تھیں۔ انٹیلی جنس نیٹ ورک اتنا مضبوط تھا کہ حملہ آور کی ہر حرکت پر نظر رکھی جا رہی تھی، جس کے باعث پورے علاقے میں پہلے ہی ہائی الرٹ جاری تھا اور فورسز پوری طرح چوکس کھڑی تھیں۔ فورسز کی اس پیشہ ورانہ کارروائی کی بدولت کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور دہشت گردوں کا یہ بزدلانہ حملہ ناکام ہو گیا۔ البتہ دھماکے کے نتیجے میں آس پاس موجود 4 افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں جنہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کر دی گئی ہے، جبکہ فورسز نے واقعے کے فوراً بعد پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

بنوں اور میرانشاہ روڈ کی اسٹرٹیجک اہمیت:

پاک افغان سرحد سے متصل اضلاع اور خصوصاً بنوں میرانشاہ روڈ ماضی میں بھی دہشت گردوں کی آمد و رفت اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں کے لحاظ سے انتہائی حساس تصور کیے جاتے رہے ہیں۔ ’اسلم کھاسادر پوسٹ 7 ڈویژن‘ کا علاقہ بنوں اور شمالی وزیرستان (میرانشاہ) کو ملانے والا ایک اہم ترین اسٹرٹیجک پوائنٹ ہے، جہاں فورسز کی چوکیاں اور نقل و حرکت مستقل رہتی ہے۔ حالیہ مہینوں میں انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اپنے نیٹ ورک کو مزید مضبوط کیا ہے، جس کی وجہ سے دہشت گردوں کے منصوبوں کو پبلک مقامات یا اہم تنصیبات تک پہنچنے سے پہلے ہی توڑا جا رہا ہے اور آج کا آپریشن بھی اسی مربوط انٹیلی جنس شیئرنگ کا نتیجہ ہے۔

حملہ آور کی بوکھلاہٹ اور فورسز کا نفسیاتی دباؤ:

معاشی و دفاعی ماہرین کے مطابق، فورسز کو سامنے دیکھ کر خودکش بمبار کا گھبراہٹ میں خود کو اڑا لینا یہ ثابت کرتا ہے کہ دہشت گرد اب شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو چکے ہیں۔ جب سیکیورٹی فورسز کے سخت پہرے کی وجہ سے وہ اپنے اصل ہدف تک پہنچنے میں ناکام ہو جاتے ہیں، تو وہ فورسز کے پریشر کی وجہ سے کھلے میدان یا سنسان چوکیوں پر ہی اپنا بارود ضائع کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں، جو کہ ان کی واضح شکست کا ثبوت ہے۔