پاکستان کرکٹ ٹیم کے ابھرتے ہوئے نوجوان وکٹ کیپر بیٹر غازی غوری نے واضح کیا ہے کہ وہ قومی ٹیم کے سینیئر اور مایہ ناز کھلاڑی محمد رضوان کا متبادل بننے کی دوڑ میں بالکل شامل نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ محمد رضوان ہی وکٹ کیپنگ کے لیے ہمیشہ ٹیم کی پہلی پسند (فرسٹ چوائس) ہیں اور ان کی جگہ کوئی دوسرا نہیں لے سکتا۔
لاہور میں منعقدہ ایک اہم پریکٹس سیشن کے دوران میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے نوجوان غازی غوری کا کہنا تھا کہ انہیں قومی ٹیم کی نمائندگی کا ایک بہترین اور سنہرا موقع ملا ہے۔ اس وقت ان کی تمام تر توجہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے اور اپنی کارکردگی کو مزید نکھارنے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب آپ کی پرفارمنس سے ٹیم کو فتح حاصل ہو تو اس سے نہ صرف ٹیم کو فائدہ پہنچتا ہے بلکہ ایک کھلاڑی کے طور پر آپ کے اپنے ذاتی اعتماد میں بھی بے پناہ اضافہ ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کرکٹ قوانین میں بڑی تبدیلیاں، آئی سی سی نے منظوری دیدی
قومی ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز ورلڈ کلاس بیٹر بابر اعظم کی تعریف کرتے ہوئے نوجوان کھلاڑی کا کہنا تھا کہ کریز پر بابر اعظم جیسے دنیا کے بہترین کھلاڑی کے ساتھ بیٹنگ کرنے سے دماغ پر موجود دباؤ بالکل ختم ہو جاتا ہے۔ بیٹنگ کے دوران بابر اعظم کی طرف سے ملنے والی مسلسل رہنمائی سے ایک جونیئر کھلاڑی کو بہت زیادہ اعتماد ملتا ہے۔ غازی غوری کا یہ بیان ثابت کرتا ہے کہ بابر اعظم کریز پر جونیئر کھلاڑیوں کو کس قدر پرسکون ماحول فراہم کرتے ہیں اور نوجوانوں کی بہترین گرومنگ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
آسٹریلیا کے خلاف پہلے میچ میں اپنی بیٹنگ حکمتِ عملی کے بارے میں بتاتے ہوئے غازی غوری نے انکشاف کیا کہ انہیں مینجمنٹ کی طرف سے واضح پیغام دیا گیا تھا کہ وکٹ پر صرف ٹھہرنا ہے کیونکہ رنز کا کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا، بس وکٹ بچا کر ایک مضبوط پارٹنرشپ قائم کرنی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنی خامیوں کو دور کرنے کے لیے ہمیشہ سخت محنت کرتے ہیں۔ ابھی ان کا کرکٹ کی دنیا میں کوئی خاص آئیڈیل نہیں ہے اور ان کا بنیادی مقصد صرف یہ ہے کہ ٹیم کو جہاں اور جس پوزیشن پر ان کی ضرورت ہو، وہاں جا کر وہ بہترین بیٹنگ کا مظاہرہ کریں۔
پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین جاری 3 ایک روزہ (او ڈی آئی) میچوں کی سیریز کے پہلے ہی میچ میں پاکستان نے آسٹریلیا کو 5 وکٹوں سے بڑی شکست دے کر سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کر لی ہے۔ اس میچ میں آسٹریلیا کی ٹیم پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 201 رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی۔ 202 رنز کا ہدف تعاقب کرتے ہوئے پاکستان کی اننگز جب مشکلات کا شکار ہوئی تو کریز پر بابر اعظم کا ساتھ دینے غازی غوری آئے۔ دونوں نے مل کر پاکستانی اننگز کو سنبھالا اور پاکستان نے یہ ہدف 43 ویں اوور میں 5 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔ اس یادگار فتح میں بابر اعظم نے 69 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی جبکہ نوجوان غازی غوری نے شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 65 رنز بنائے اور فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔
مزید پڑھیں: یوایفا چیمپیئنز لیگ فائنل: پی ایس جی نے آرسنل کو ہرا کر مسلسل دوسری بار ٹائٹل جیت لیا، پیرس میں ہنگامے
غازی غوری نے محمد رضوان کو ’فرسٹ چوائس‘ قرار دے کر انتہائی میچورٹی اور حقیقت پسندی کا ثبوت دیا ہے، جس سے ٹیم کے اندرونی ماحول میں کسی بھی قسم کی سیاست یا موازنے کی فضا ختم ہوتی ہے اور یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جونیئر کھلاڑی اپنے سینیئرز کا بے حد احترام کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی غازی غوری کا آسٹریلوی ٹیم کے بارے میں یہ تجزیہ بھی بالکل درست ہے کہ کینگروز کے پاس چاہے سینیئر کھلاڑی موجود نہ ہوں، لیکن آسٹریلیا کی کرکٹ ثقافت ایسی ہے کہ وہ کسی بھی وقت میچ اور سیریز میں دباؤ سے نکل کر ’باؤنس بیک‘ (شاندار واپسی) کر سکتے ہیں۔ اس لیے پہلے میچ کی فتح کے بعد پاکستان کو اگلے میچوں میں حد سے زیادہ پرامید ہونے سے بچنا ہوگا۔



