کراچی (1 جون 2026): سونے کی قیمتوں میں جاری مسلسل اضافے کے بعد بالاخر بڑا یوٹرن؛ جون کے آغاز پر ہی مقامی اور عالمی مارکیٹ میں سونا ہزاروں روپے سستا ہو گیا، فی تولہ قیمت میں 3100 روپے کی نمایاں کمی، چاندی کے نرخ برقرار۔
عالمی اور مقامی صرافہ بازاروں میں پچھلے کئی ماہ سے سونے کی قیمتوں میں جاری مسلسل اور ریکارڈ اضافے کے بعد بالاخر ایک بڑا یوٹرن سامنے آیا ہے، اور جون کے آغاز پر ہی سونا ہزاروں روپے سستا ہو گیا ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ملک بھر میں 24 قیراط فی تولہ سونے کی قیمت میں 3100 روپے کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 71 ہزار 762 روپے کی سطح پر آگئی ہے۔
اسی طرح، 24 قیراط کے حامل 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 2658 روپے کی کمی دیکھی گئی ہے اور اب یہ 4 لاکھ 4 ہزار 459 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ دوسری جانب، زیورات کی تیاری میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے 22 قیراط کے حامل 10 گرام سونے کی قیمت بھی 2437 روپے گر کر 3 لاکھ 70 ہزار 767 روپے کی سطح پر بند ہوئی ہے، جس سے گرمیوں کے اس سیزن میں شادیوں کی تیاریوں میں مصروف خاندانوں کو معمولی ریلیف ملے گا، اگرچہ قیمت اب بھی مجموعی طور پر بہت زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سونے اور چاندی کی قیمتوں میں ایک بار پھر کمی، فی تولہ سونا 2400 روپے سستا ہو گیا
عالمی مارکیٹ کے اثرات اور قیمتیں گرنے کی وجوہات:
مقامی مارکیٹ میں یہ بڑی کمی عالمی بازار میں سونے کے نرخ گرنے کے باعث دیکھی گئی ہے، جہاں بین الاقوامی سطح پر سونے کی قیمت 31 ڈالر کی کمی سے 4494 ڈالر فی اونس پر آ گئی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق، عالمی سطح پر یہ کمی سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کمانے (پرافٹ ٹیکنگ) کے لیے سونے کی فروخت اور دیگر سرمایہ کاری کے ذرائع کی طرف راغب ہونے کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔ پچھلے کچھ مہینوں سے عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، جیو پولیٹیکل تنازعات اور مختلف مرکزی بینکوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر خریداری کی وجہ سے بین الاقوامی مارکیٹ میں سونا تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا تھا، جس کے اثرات پاکستانی صرافہ بازار پر بھی گہرے پڑے اور ڈالر کی اونچی اڑان کے باعث سونا عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو گیا تھا، یہاں تک کہ مارکیٹ میں خریداروں کا رش 70 فیصد تک کم ہو چکا تھا۔
چاندی کی قیمتوں میں استحکام:
سونے کی قیمتوں میں ہونے والے اس بڑے اتار چڑھاؤ کے برعکس چاندی کی قیمتوں میں مکمل استحکام رہا۔ مارکیٹ میں 24 قیراط فی تولہ چاندی بغیر کسی تبدیلی کے 8034 روپے اور 10 گرام چاندی 6887 روپے پر برقرار رہی ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ صنعتی اور مقامی سطح پر چاندی کی مانگ اور سپلائی میں اس وقت توازن ہے اور اس میں وہ قیاس آرائیاں نہیں ہو رہیں جو سونے کی مارکیٹ میں روزانہ کی بنیاد پر دیکھنے کو ملتی ہیں۔



