فضل الرحمن کے بیان سے شہداء کے خاندانوں کو شدید ٹھیس پہنچی ،انہیں معافی مانگنی چاہئے، بتول راجپوت

صحافی بتول راجپوت نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کی حالیہ بیان بازی ان کی سیاسی مایوسی کا نتیجہ ہے کیونکہ وہ دہائیوں تک اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ رہنے کے بعد اب خود کو سسٹم سے باہر اور غیر متعلق محسوس کر رہے ہیں۔

بتول راجپوت کا مزید کہنا تھا کہ ان سے صدر مملکت بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا جو پورا نہیں ہوا، اور اب وہ اور ان کا خاندان ماضی کی طرح اہم عہدے برقرار نہیں رکھ پا رہے، جس کی وجہ سے وہ دوبارہ سیاسی طور پر (Relevant) رہنے کیلئے سخت زبان استعمال کر رہے ہیں۔

صحافی کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے فوج کے جوانوں کی تنخواہوں اور ٹیکسوں کے حوالے سے جو الفاظ استعمال کیے، وہ انتہائی غیر حساس (below the belt) ہیں، جس سے شہداء کے خاندانوں اور عوام کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:افواج پاکستان کیخلاف زہرافشانی اور مودی کی تعریف ، نورین نیازی کو این سی سی ائی اے کا نوٹس جاری

انہوںنے کہا کہ مولانا ہمیشہ سے اہم آئینی ترامیم اور سیاسی فیصلوں کا حصہ رہے ہیں اور دہائیوں تک کشمیر کمیٹی جیسی اہم ذمہ داریوں پر فائز رہے، لیکن وہ کشمیر یا بلوچستان جیسے بڑے مسائل حل کرنے میں ناکام رہے۔

اب سسٹم سے باہر ہونے کے بعد ان کی شدید تنقید محض اس لیے ہے کہ وہ اقتدار میں نہیں ہیں۔ اس طرح کی اشتعال انگیز زبان اور جی ایچ کیو کے باہر احتجاج جیسی دھمکیاں مولانا کو عمران خان یا الطاف حسین کے راستے پر لے جائیں گی، جو نادانستگی میں ایسے اقدامات کر کے آہستہ آہستہ سسٹم سے باہر ہو گئے تھے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:جی ایچ کیو کے باہر دھرنے کی دھمکی، سینئر صحافی منصور علی خان فضل الرحمن پر برہم

سینئر صحافی بتول راجپوت کا مزید کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن کو اپنی سیاسی باڈی لینگویج درست کرنی چاہیے اور اگر یہ “سلپ آف ٹنگ” تھا تو انہیں معذرت کر لینی چاہیے، کیونکہ معذرت کرنے سے سیاستدان کا قد بڑا ہوتا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ فضل الرحمن کو چاہیے کہ وہ اپنی جماعت کے انفرادی مسائل کو ملک کے اجتماعی مسائل نہ بنائیں اور اداروں کے خلاف لوگوں کو اکسانے کے بجائے پالیسی کی زبان میں بات کریں تاکہ نظام میں مزید بگاڑ پیدا نہ ہو۔