ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن ہے، آبنائے ہرمز کو ہر صورت کھلا رکھا جائے گا، مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود سفارتی حل کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ عالمی توانائی کے لیے کلیدی اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز کو ہر صورت کھلا رکھا جائے گا۔

برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق، امریکی وزیر خارجہ نے یہ اہم بیان اپنے دورہ بھارت کے دوران جے پور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دیا۔ مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ اس وقت قطر میں مذاکرات کا عمل جاری ہے اور ہمیں دیکھنا ہوگا کہ وہاں کوئی مثبت پیش رفت ہوتی ہے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارتی کوششوں میں زیادہ وقت دستاویزات کے متن اور اصطلاحات کی درستی پر صرف ہوتا ہے، جس کی وجہ سے حتمی نتیجے میں چند دن لگ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایرانی افزودہ یورنیم کی حوالگی، امریکی صدر کا یوٹرن ، موقف بدل لیا

مارکو روبیو نے صدر کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی قیادت اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کی خواہش مند ہے، تاہم امریکہ صرف ایک “اچھے معاہدے” پر ہی اتفاق کرے گا، بصورت دیگر کوئی معاہدہ نہیں کیا جائے گا۔ عالمی تجارتی گزرگاہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز کسی نہ کسی طریقے سے کھلی رہے گی تاکہ عالمی توانائی کی ترسیل متاثر نہ ہو۔ واضح رہے کہ تہران نے اس اہم گزرگاہ میں نقل و حرکت کو مفلوج کر رکھا ہے جبکہ امریکہ نے اپریل سے ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ کر رکھا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایک ایسے نازک وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فوج نے جنوبی ایران پر نئے حملے کیے ہیں، جس سے پہلے سے موجود کمزور جنگ بندی مزید خطرات سے دوچار ہو گئی ہے۔ تاہم، عرب میڈیا کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے “فاکس نیوز” کو بتایا کہ ان حالیہ حملوں کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ گذشتہ ماہ طے پانے والے نازک سیزن فائر کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ امریکہ ان حملوں کے باوجود سفارتی راستے کھلے رکھنے کا حامی ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کا ابراہیمی معاہدہ کیا ہے اور کتنے مسلم ممالک اس پر دستخط کر چکے ؟

مشرق وسطیٰ کے علاوہ روس یوکرین کے معاملے پر بات کرتے ہوئے مارکو روبیو نے واضح کیا کہ یوکرین کے ساتھ اس وقت کسی قسم کے فعال یا طے شدہ مذاکرات جاری نہیں ہیں۔ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور ایرانی بندرگاہوں کے معاشی و فوجی محاصرے نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر رکھی ہے، جہاں ایک طرف تہران اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو دوسری طرف امریکہ اپنے سٹریٹجک مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم نظر آتا ہے۔