امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے افزودہ یورینیم کی حوالگی کے حوالے سے یوٹرن لیتے ہوئے اپنا موقف نرم کرلیا ہے۔
ٹروتھ سوشل پر بیان جاری کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ افزودہ یورینیم کو یا تو فوری طور پر امریکا کے حوالے کیا جائے گا تاکہ اسے وہاں منتقل کر کے تلف کر دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت مسلم ممالک کو ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بن جانا چاہیے: ٹرمپ کا مشورہ
ٹرمپ نے موقف بدلتے ہوئے کہا کہ یا ترجیحاً اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ باہمی تعاون اور ہم آہنگی کے تحت اسی مقام پر یا کسی دوسرے قابل قبول مقام پر تباہ کیا جائے۔
امریکی صدر نےکہا کہ اس پورے عمل اور موقع پر ایٹمی توانائی کمیشن، یا اس کے مساوی ادارے کی نگرانی اور موجودگی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا ابراہیمی معاہدہ کیا ہے اور کتنے مسلم ممالک اس پر دستخط کر چکے ؟
اس سے قبل صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے امریکی صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران اپنے تباہ شدہ افزودہ یورینیم کو بھی امریکا کے حوالے کرنے پر تیار ہو گیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا اور ایران کے مذاکرات کار جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے ’کافی قریب‘ پہنچ چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا کے جنوبی ایران پر فضائی حملے،سینٹ کام کی تصدیق
امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ مجوزہ حتمی معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے گا اور یہ بھی یقینی بنائے گا کہ ایران کے افزودہ یورینیم کوتسلی بخش انداز میں سنبھالا جائے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ’میں صرف ایسے معاہدے پر دستخط کروں گا جس میں ہمیں وہ سب کچھ حاصل ہو جو ہم چاہتے ہیں۔




