ٹرمپ کا ابراہیمی معاہدہ کیا ہے اور کتنے مسلم ممالک اس پر دستخط کر چکے ؟

امریکا ایران تنازع کے خاتمے کی کوششیں جاری ہیں اور فریقین کسی معاہدے پر پہنچنے کے قریب دکھائی دے رہے ہیں ، اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلم ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ابراہیمی معاہدے کو قبول کر کے اس پر دستخط کر دیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر بیان جاری کرتے ہوئے تمام اسلامی ممالک سے ابراہیمی معاہدے پر دستخط کرنے کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت مسلم ممالک کو ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بن جانا چاہیے: ٹرمپ کا مشورہ

ٹرمپ نے کہاکہ سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکیے اور دیگر ممالک ابراہیمی معاہدے پر دستخط کریں، آغاز سعودی عرب اور قطر سے ہونا چاہیے، ممکن ہے ایک 2ممالک کے پاس ابراہیمی معاہدے میں شامل نہ ہونے کی وجہ ہو اسے قبول کیا جائے گا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جن ممالک نے معاہدے پردستخط کیے یہ ان کےلیے مالی،معاشی اور سماجی ترقی کا ایک انقلاب ثابت ہوگا، یہ ایسی دستاویز ہوگی جس کا احترام دنیا میں اب تک دستخط ہونے والی کسی بھی دستاویز سے زیادہ ہوگا۔

ابراہیمی معاہدہ ہے کیا، اب تک کتنے مسلم ممالک اس پر دستخط کر چکے؟

امریکا کی طرف سے مسلمانوں ، یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان ایک بڑی صلح کا تصور 2020 میں سامنے آیا جس کا بنیادی تصور تینوں بڑے مذاہب باالخصوص مسلم دنیا اور اسرائیل میں صلح کرانا تھا جسے ابراہیمی معاہدے کے طور پر جانا جاتا ہے۔

ابراہیمی معاہدہ 2020 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور اقتدار میں ہوا ، ابراہیم اکارڈ اسرائیل اور کئی عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے طے پانے والے معاہدوں کا ایک مجموعہ ہے۔

اس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور مسلمان ممالک خاص طور پر عرب ممالک کے درمیان ایک دوسرے کے ملکوں میں سفارتخانے کھولنا، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات قائم کرنا ہے۔

ابراہیم اکارڈ کا آغاز متحدہ عرب امارات اور بحرین کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام سے ہوا۔ متحدہ عرب امارات ، بحرین کے بعد مراکش اور سوڈان نے بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے معاہدے کئے۔

گزشتہ سال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ قازقستان نے بھی باضابطہ طور پر معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت اختیار کرلی۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کوششوں پر خراجِ تحسین

اسرائیل نے اسے عرب دنیا میں اپنی سفارتی قبولیت کے ایک بڑے مرحلے کے طور پر دیکھا لیکن فلسطینی قیادت اور کئی مسلم ممالک کے نزدیک بنیادی سوال یہ رہا کہ فلسطین کے مسئلے کا کیا ہوگا؟

پاکستان کا سرکاری اور آئینی مؤقف مسلسل یہی رہا ہے کہ اسرائیل کو اُس وقت تک تسلیم نہیں کیا جا سکتا جب تک فلسطینیوں کو 1967سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد اور خودمختار ریاست نہ مل جائے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

پاکستان کی یہ پوزیشن صرف سفارتی نہیں بلکہ تاریخی اور آئینی بھی سمجھی جاتی ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح سے لے کر آج تک پاکستان کی ریاستی پالیسی فلسطینی حقِ خودارادیت کی حمایت پر قائم رہی ہے۔