ملک بھر میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، فی تولہ 4600 روپے مہنگا ہو گیا

اسلام آباد: ملک میں ایک روز کے وقفے کے بعد سونے اور چاندی کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اور ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے بعد مقامی اور عالمی صرافہ مارکیٹوں میں تیزی کا رجحان پایا جا رہا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں ہونے والی اس غیر معمولی تیزی کے باعث پاکستان بھر کے مقامی صرافہ بازاروں میں بھی سونے کی قیمتیں تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

عالمی بلین مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں 46 ڈالر کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد انٹرنیشنل ریٹ 4554 ڈالر فی اونس کی سطح تک پہنچ گیا ہے۔ مارکیٹ مبصرین کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان متوقع سفارتی ڈیل کے حوالے سے سامنے آنے والی حالیہ خبروں نے عالمی معیشت کو متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر سونے کی قیمتوں میں یہ غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔

آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ملک بھر میں 24 قیراط فی تولہ سونے کی قیمت میں 4600 روپے کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس بڑے اضافے کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں فی تولہ سونا بڑھ کر 477,762 روپے کا ہو گیا ہے، جس نے خریداروں اور تاجروں کو حیران کر دیا ہے۔

فی تولہ سونے کے ساتھ ساتھ 10 گرام سونے کے نرخوں میں بھی نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے۔ ملک میں 10 گرام سونے کی قیمت 3943 روپے اضافے کے بعد 409,603 روپے کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے۔ سونے کی قیمتوں میں ہونے والے اس مسلسل اضافے نے مقامی جیولری انڈسٹری اور سرمایہ کاروں کی سرگرمیوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔

سونے کے ساتھ ساتھ ملک میں چاندی کے خریداروں کے لیے بھی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ مقامی مارکیٹ میں فی تولہ چاندی کی قیمت میں 236 روپے کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد چاندی اب 8270 روپے فی تولہ کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر جاری معاشی و سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باعث آنے والے دنوں میں بھی ان قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا امکان مسلسل برقرار رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں: سونا مہنگا! آج کے تازہ ترین ریٹس سامنے آگئے

دوسری جانب عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں پیر کے روز کاروباری ہفتے کے آغاز پر ہی قیمتوں میں ایک فیصد سے زائد کا بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ماہرینِ معیشت کے مطابق عالمی سطح پر ہونے والے اس اضافے کی بڑی وجوہات میں امریکی ڈالر کی قدر اور خام تیل کی قیمتوں میں آنے والی حالیہ نرمی شامل ہے۔

رپورٹس کے مطابق، عالمی مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی پوزیشن اور خام تیل کے نرخوں میں کمی نے سرمایہ کاروں کے رجحان کو یکسر بدل دیا ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں نرمی آتے ہی انویسٹرز نے اپنے اثاثوں کو محفوظ بنانے کے لیے ایک بار پھر سونے کی مارکیٹ کا رخ کر لیا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر سونے کی طلب میں اچانک اور غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

عالمی منڈی میں یہ صورتحال امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے سے متعلق سامنے آنے والی امیدوں کے باعث پیدا ہوئی ہے۔ اگرچہ سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے متعلق حالیہ بیانات نے مارکیٹ میں ایک غیر یقینی کیفیت بھی پیدا کر دی ہے، جس نے سرمایہ کاروں کو سونے کی خریداری کی طرف مزید راغب کیا۔

واضح رہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ نے اپنے نمائندوں کو سخت ہدایت دی ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں بالکل جلد بازی نہ کی جائے۔ اس سے قبل ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان امن معاہدے پر تفصیلی بات چیت جاری ہے، جس کا ایک بڑا مقصد آبنائے ہرمز کو تجارتی سرگرمیوں کے لیے دوبارہ کھولنا بھی ہو سکتا ہے۔

عالمی سطح پر رونما ہونے والی اس تیزی اور سیاسی و معاشی صورتحال کے اثرات کے باعث ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک کی مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی سونے کی قیمتوں میں مزید بڑا اتار چڑھاؤ اور اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔