کوئٹہ چمن پھاٹک پر نیوالے خودکش دھماکے میں جہاں کئی معصوم لوگوں کا خون بہایا گیا وہی نام نہادمسنگ پرسنز کا پروپیگنڈا بھی زمین بوس ہوگیا۔
بلال شاہوانی جس کے نام پر نام نہاد انسانی حقوق کے چیمپنئز نے ہفتوں تک حکومت کیخلاف احتجاج کیا اور حکومت پر الزام لگایا کہ بلال شاہوانی کا لاپتہ کیا گیا ہے، اسی بلال شاہوانی نے 37کلو بم سے خود کو اڑا کرکئی گھروں کو اجاڑ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ دھماکہ، بنگلادیشی وزیراعظم طارق رحمان کی مذمت، پاکستان سے اظہار یکجہتی
دہشتگرد تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے خود ذمہ داری قبول کرتے ہوئےخودکش بمبار کی شناخت بلال شاہوانی کے نام سے جاری کی۔ یہ وہی بلال شاہوانی ہے جسے بلوچ یکجہتی کمیٹی اور ماہ رنگ لانگو سمیت کچھ انسانی حقوق کے چیمپیئن گروپوں نے گزشتہ برس دسمبر میں لاپتہ قرار دے کر بھرپور احتجاج کیا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ بلال شاہوانی BLA کی مجید بریگیڈ کا تربیت یافتہ دہشتگرد تھا۔ اس نے 39 کلو سے زائد بارودی مواد سے بھری گاڑی ٹرین کے قریب دھماکے سے اڑا دی۔
نتیجہ میں معصوم لوگ شہیدہوئے جن میں خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں، جبکہ 70 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
یہ تمام لوگ بلوچ تھے ، وہی بلوچ جن کی آزادی کا نعرہ لگا کر BLA اور اس کے سہولت کار جال بچھاتے ہیں۔ ایک بلوچ صحافی کے خاندان سمیت عام گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔ مالی نقصان الگ، انسانی تباہی الگ ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں:کوئٹہ ٹرین دھماکہ:بلوچستان رئیلٹی نے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے زیراثر ایکس ہینڈلز کی پروپیگنڈا مہم بے نقاب کردی
یہ پہلا موقع نہیںکہ بی ایل اے ہر دہشتگردانہ کارروائی سے پہلے یا بعد میں لاپتہ افراد کی فہرست جاری کرتا ہے اور انہیں اپنا ہیرو بنا کر پیش کرتا ہے۔ پھر جب حقیقت سامنے آتی ہے تو انسانی حقوق والے خاموش ہو جاتے ہیں۔
کئی نام نہاد رہنمائوں نے بلال شاہوانی کی گمشدگی پر ریاست اور ریاستی اداروں پر خوب تنقید کی۔ آج جب بی ایل اے نے خود اسے اپنا بمبار قرار دیا تو ان سب کی زبان بند؟ یہ دوہرا معیار نہیں تو کیا ہے؟




