ٹیوٹا میں خالی آسامیوں پر بھرتیاں ، سنگین سوالات اٹھنے لگے

مظفرآباد(کشمیرڈیجیٹل)آزاد جموں و کشمیر میں عام انتخابات کی آمد آمد کے پیش نظر ٹیوٹا میں اوپن میرٹ پر مشتہر ہونے والی درجنوں آسامیوں کی بھرتیوں پر سنگین سوالات اٹھ گئے۔

ذرائع کے مطابق ٹیوٹا کی جانب سے 24، 25 اور 26 مئی کو راولاکوٹ، مظفرآباد اور میرپور بیک وقت ٹیسٹ اور انٹرویوز کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

تاہم امیدواروں اور شہری حلقوں نے اس تمام عمل کو محض‘‘خانہ پوری’’قرار دیتے ہوئے شفافیت پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔اطلاعات کے مطابق جن آسامیوں کیلئے ٹیسٹ اور انٹرویوز لئے جا رہے ہیں۔۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بنوں :سی ٹی ڈی، بنوں پولیس ،سکیورٹی فورسز نے مشترکہ آپریشن کی ویڈیو جاری کردی

وہ سکیل 6 تک ہیں ان کے انٹرویو تشکیل شدہ سلیکشن کمیٹی کے بجائے کمپیوٹر آپریٹر، سینئر کلرک لے رہے ہیں، جسے امیدواروں نے قواعد و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ امیدواروں سے تحریری ٹیسٹ لینے کے باوجود نہ تو اس کا کوئی نتیجہ جاری کیا گیا اور نہ ہی پاس یا فیل ہونے کی کوئی تفصیل سامنے لائی گئی۔

جبکہ اس کے برعکس انٹرویوز کا سلسلہ فوری طور پر شروع کر دیا گیا۔ متاثرہ امیدواروں کا الزام ہے کہ پہلے سے منتخب اور من پسند افراد کو نوازنے کے لیے پورا عمل ترتیب دیا گیا ہے تاکہ انتخابات سے قبل مخصوص سیاسی حلقوں کا ووٹ بینک مضبوط کیا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق ضلع مظفرآباد اور ضلع ویلی سے تقریباً تین سو خواتین امیدواروں کو ٹیسٹ اور انٹرویوز کیلئے طلب کیا گیا، تاہم امیدواروں نے جانبدار کمیٹی پر میرٹ کی دھجیاں بکھیرنے اور شفاف تقرریوں کے اصول پامال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

امیدواروں اور شہری حلقوں نے چیف سیکرٹری آزاد کشمیر اور چیف الیکشن کمشنر سے فوری نوٹس لینے، بھرتی کے عمل کی تحقیقات کرانے اور میرٹ کی بنیاد پر شفاف تقرریاں یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ۔

قبل ازیں آزاد جموں و کشمیر ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (ٹیوٹا) میں حالیہ الیکشن پراسیس کے عمل کے دوران قائم سلیکشن کمیٹی میں اختلافات سامنے آنے کی اطلاعات نے پورے عمل کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے تھے جبکہ متاثرہ امیدواروں نے ان بھرتیوں کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ سلیکشن کمیٹی ڈائریکٹر ایڈمن کی سربراہی میں تشکیل دی گئی تھی، جس میں ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن اور ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشن/اکیڈمک بطور ممبران شامل تھے۔

تاہم باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی کے ایک اہم رکن نے مبینہ طور پر‘‘ڈکٹیشن’’لینے سے انکار کرتے ہوئے نہ صرف سلیکشن کے مجموعی طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا بلکہ میرٹ کے برعکس کسی بھی فیصلے کا حصہ بننے سے بھی انکار کر دیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم فیصل راٹھور کی راجہ پرویز اشرف اہم ملاقات،الیکشن مہم بھرپور چلانے پر اتفاق

ذرائع کے مطابق اس اختلاف کے نتیجے میں کمیٹی عملاً دو رکنی رہ گئی، جو قواعد و ضوابط کے مطابق نامکمل تصور کی جاتی ہے۔ اس کے باوجود نیلم اور جہلم ویلی میں امیدواروں کے انٹرویوز مکمل کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جو خود ایک سوالیہ پہلو ہے۔

اختلاف کرنے والے رکن کی جانب سے کسی بھی متنازع دستاویز پر دستخط سے انکار کے باعث اس پورے عمل کے تحت ہونے والی ممکنہ تقرریاں قانونی اور اخلاقی لحاظ سے متنازع قرار دی جا رہی ہیں۔

دوسری جانب درخواست دہندگان کا کہنا ہے کہ ان سے فی درخواست 500 روپے فیس وصول کی گئی جبکہ بیانِ حلفی کی مد میں جمع شدہ رقم محکمہ اسٹامپس کے اکاؤنٹ میں جمع کرائی گئی۔

اس کے باوجود امیدواروں کی بڑی تعداد یہ سوال اٹھا رہی ہے کہ جب نتائج مبینہ طور پر پہلے ہی طے شدہ تھے تو پھر بھرتی کے اس عمل کو کیوں اختیار کیا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق جہلم ویلی کی ایک نشست کے لیے تقریباً 50، نیلم کی دو نشستوںکیلئے 40 جبکہ مظفرآباد کی دو آسامیوں کے لیے لگ بھگ 150 درخواستیں موصول ہوئیں جس کے باعث صرف درخواست فیس کی مد میں ایک خاطر خواہ رقم جمع ہونے کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔

مزید برآں، ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مجاز حکام کی جانب سے پہلے سے تعینات عارضی ٹیچرز کو مستقل کرنے کے لیے بھرتی کے عمل کو محض رسمی کارروائی کے طور پر استعمال کیا گیا۔

لیپا میں عظمت بی بی، مظفرآباد میں نصرت اور عظمیٰ ظفر جبکہ نیلم میں شازیہ اور سلمیٰ کے نام بطور ممکنہ مستقل امیدوار سامنے آنے کے بعد متاثرہ امیدواروں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

متاثرہ امیدوار خواتین کے عزیز و اقارب پر مشتمل ایک وفد نے پٹہکہ نصیر آباد میں ممبر سینٹرل بار ایسوسی ایشن اور نوجوان قانون دان سید ساجد نقوی ایڈووکیٹ سے ملاقات کی اور انہیں صورتحال سے آگاہ کیا۔

وفد کا کہنا تھا کہ ان کے انٹرویوز تو لیے گئے ہیں مگر اطلاعات ہیں کہ پہلے سے تعینات عارضی معلمات کو ہی مستقل کیا جا رہا ہے، ذرائع کے مطابق پپرا رولز کے مطابق ملازمت کیلئے دیا جانے والا ایڈ دو قومی اور 4 لوکل پیپرز میں شائع ہونا لازمی ہے ٹیوٹا کے اس ایڈ میں ان رولز کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے