جمعیت علماء جموں وکشمیر نے مسلم لیگ ن سے ہاتھ ملا لیا،انتخابی اتحاد کا اعلان

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) جمعیت علمائے جموں و کشمیر نے پاکستان تحریک انصاف سے اپنی راہیں جدا کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ نئے سیاسی اتحاد کا اعلان کر دیا۔

اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس میں وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام، صدر مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر شاہ غلام قادر اور امیر جمعیت علمائے جموں و کشمیر مولانا امتیاز احمد صدیقی سمیت دونوں جماعتوں کی اہم شخصیات شریک ہوئیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر:پنجاب حکومت کے تعاون سے سیف سٹی پراجیکٹ شروع کرنے کا فیصلہ

اجلاس میں جمعیت علمائے جموں و کشمیر نے باضابطہ طور پر پی ٹی آئی کے ساتھ سابقہ انتخابی اتحاد ختم کرنے کا اعلان کیا اور آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ۔

مولانا امتیاز احمد صدیقی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی شوریٰ اور قیادت کے اجلاس میں نئی سیاسی حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا،موجودہ سیاسی حالات میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے ۔۔

جمعیت علمائے جموں و کشمیر نے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ انتخابی اتحاد کا باضابطہ اعلان کر دیا،جمعیت علمائے جموں و کشمیر نے پی ٹی آئی کے ساتھ سابق انتخابی اتحاد ختم کرنے کی تصدیق کر دی۔

مولانا امتیاز احمد صدیقی کا کہنا تھا کہ 9 مئی واقعات کے بعد جماعت نے پی ٹی آئی اتحاد ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جمعیت علمائے جموں و کشمیر آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کی کامیابی کیلئے بھرپور کردار ادا کرے گی۔

ان کے اعلان کے ساتھ ہی اجلاس میں موجود کارکنوں نے “اللہ اکبر’’پاکستان زندہ باد‘‘ اور’’شیر آیا شیر آیا‘‘ کے پرجوش نعرے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:میونسپل کارپوریشنز کیلئے 6.900 ملین روپے خصوصی گرانٹ منظور

اس موقع پر انجینئر امیر مقام نے جمعیت علمائے جموں و کشمیر کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا۔انجینئر امیر مقام کا کہنا تھا کہ یہ اتحاد صرف سیاسی نہیں بلکہ نظریاتی ہم آہنگی کا عکاس ہے۔

آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) ایک مضبوط سیاسی قوت بن کر ابھر رہی ہے اور مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کا اعتماد مسلم لیگ (ن) کی قیادت پر بڑھتا جا رہا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علمائے جموں و کشمیر کی علیحدگی آزاد کشمیر کی سیاست میں بڑی تبدیلی تصور کی جا رہی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ مذہبی ووٹ بینک اور تنظیمی اثر و رسوخ کے باعث یہ اتحاد آئندہ انتخابات میں کئی حلقوں کے سیاسی نتائج تبدیل کر سکتا ہے۔

دوسری جانب سیاسی حلقوں میں یہ سوال بھی گردش کر رہا ہے کہ آیا پی ٹی آئی اس بڑے سیاسی نقصان کا کوئی متبادل حکمت عملی سے جواب دے پائے گی یا نہیں۔