پی ٹی آئی رجسٹریشن معطلی،میر عتیق نے راجہ منصور پر سنگین الزامات عائد کردیئے

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آزادکشمیر کےسیکرٹری جنرل میر عتیق الرحمان نے کہا ہےکہ 2سال تک راجہ منصور جنرل سیکرٹری رہے اور اس سے قبل راجہ منصور ایڈیشنل سیکرٹری رہے، انہوں نے ایک دفتر بیرسٹر سلطان محمود کو گلبرگ میں بنا کر دیا تھا اور ایک راجہ منصور کے پاس سوہاں اسلام آباد میںتھا ۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے میر عتیق الرحمان نے کہاکہ دونوں دفاتر چل رہے تھے ،10سے12ملازم تھے،ان کے دور میں انہوں نے صرف ایک نوٹیفکیشن کیا ہے، ہائیکورٹ میں بیان حلفی دیا تھا جس کا راجہ منصور کوپتا تھا، الیکشن کمیشن میں بیان حلفی دیا تھا کہ ہم 6ماہ میں فارم38،فارم39،40،41اور پارٹی کا آئین مہیا کرینگے، اب لاعلمی ہزار نعمت ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کو بڑا جھٹکا، اہم رہنمامستعفی، ساتھیوں سمیت ن لیگ میں شامل

انہوں نے کہا کہ 7ستمبر2023کو میں جنرل سیکرٹری بنا اور 5اکتوبر2023کو ہائیکورٹ نے پارٹی کی رجسٹریشن معطل کردی، میں راجا منصور کی بات سنوں یا ہائیکورٹ کا فیصلہ دیکھوں۔؟

ہماری پارٹی رجسٹریشن نہیں ختم ہوئی، ہماری پارٹی کی رجسٹریشن معطل کی گئی ہے۔9مئی کے بعد کس نے کیا کیا؟ ہمارے پاس سارا ریکارڈ موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے دن سے تنقید کی جاتی ہے،یہ سوشل میڈیا پر گئے تو عمران خان کے نوٹس پر انہوں نے اپنے بیان کی ہی تردید کردی۔

انہوں نے کہا کہ سردار عبدالقیوم نیازی 2018میں پی ٹی آئی میں شامل ہوئے، مرکزی تنظیم میں شامل ہوئے،پھر وہ پارلیمانی بورڈ میں بھی رہے، پھر وزیراعظم بنے اور وہ صدر جماعت ہیں، اب وہ مسلم کانفرنسی کیسے ہوگئے۔؟

انہوں نے کہا کہ سیف اللہ نیازی کو ہمیں بھی بلا کر سننا چاہیے تھا، پاکستان میں انتخابی نشان نہیں ملا،گلگت میںنہیں ملا کیاوہاں بھی قیوم نیازی اور میر عتیق کا قصور ہے؟

یہ بھی پڑھیں:الیکشن کمیشن گلگت بلتستان: پی ٹی آئی امیدواروں کو انتخابی نشان الاٹ، ڈیموکریٹک پارٹی پر پابندی

میر عتیق کا کہنا تھا کہ ہم فیلڈ کی سیاست کرتے ہیں اور دن رات جماعت کے لئےکام کر تے ہیں کچھ لوگ اسلام آباد میں بیٹھے کر  ڈرامے کر رہے ہوتے ہیں۔

یاد رہے کہ پی ٹی آئی کے سابق سیکرٹری جنرل راجہ منصور ان دنوں پارٹی رہنمائوں سے ناراض ہیں اور پارلیمانی بورڈ کی تشکیل کیخلاف احتجاج بھی ریکارڈکرایا ہے جبکہ الیکشن کمیشن کے فیصلہ پرآزادکشمیر کی قیادت پر تنقید بھی کی ہے۔