میرے اور شاہین آفریدی کے درمیان کوئی اختلاف نہیں، سوشل میڈیا کی خبریں درست نہیں: عمر گل

پاکستان کرکٹ ٹیم کے بولنگ کوچ عمر گل نے فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کے ساتھ اختلافات کی سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔ سلہٹ میں بنگلادیش کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن کے کھیل کے اختتام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے میچ کی صورتحال اور ٹیم کی حکمت عملی پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔

قومی ٹیسٹ ٹیم کے بولنگ کوچ عمر گل نے پریس کانفرنس کے دوران واضح کیا کہ کل صبح جب انہوں نے سوشل میڈیا دیکھا تو شاہین آفریدی اور ان کے متعلق یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ شاہین کوچ کی بات نہیں مان رہا، جبکہ حقیقت میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ انہوں نے اصل واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ میچ کے دوران حسن علی گرا تھا اور اس کے سر پر چوٹ لگی تھی، جس پر باہر بیٹھے شاہین آفریدی سے گفتگو ہو رہی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: کوہ پیمائوں نے ماؤنٹ ایورسٹ پر نئی تاریخ رقم کردی، عالمی ریکارڈ قائم

عمر گل نے مزید بتایا کہ انہوں نے شاہین آفریدی سے کہا تھا کہ حسن علی کے سر پر گیند لگی ہے اور چونکہ کن کشن (Concussion) کا وقت بہت کم ہوتا ہے، اس لیے آپ میدان میں چلے جاؤ۔ بولنگ کوچ کا کہنا تھا کہ دیکھنے میں ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے شاہین کہہ رہا ہو کہ اس کا دماغ ٹھیک نہیں، لیکن اصل میں ایسا کچھ نہیں تھا اور ان کے درمیان کوئی اختلاف یا ناراضگی نہیں ہے، سوشل میڈیا پر آنے والی تمام خبریں غیر درست ہیں۔

بنگلادیش کے خلاف میچ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے عمر گل نے کہا کہ ہمارے پاس ابھی دو دن کا وقت موجود ہے اور اس بات کا امکان بھی ہے کہ میچ میں بارش ہو جائے، اس لیے کھیل میں ابھی کافی وقت باقی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر پاکستانی ٹیم مسلسل دو دن تک بہترین بیٹنگ کا مظاہرہ کرتی ہے تو ہمارے پاس یہ میچ جیتنے کا پورا موقع موجود ہے، اور یہ وقت اتنا کم نہیں ہے کہ میچ لازمی ڈرا کی طرف چلا جائے، بلکہ دونوں ٹیموں کے پاس کامیابی حاصل کرنے کا برابر موقع ہے۔

بولنگ کوچ نے ہدف کے تعاقب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 437 رنز کا بڑا اور مشکل ہدف حاصل کرنے کے لیے ٹیم کو دو سے تین اچھی اور طویل پارٹنرشپ لگانے کی ضرورت ہوگی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قومی ٹیم کے بیٹرز ذہنی طور پر اس بڑے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے مکمل تیار ہیں اور میدان میں اس کو حاصل کرنے کی بھرپور کوشش بھی کریں گے۔

عمر گل نے پچ کے مزاج کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ کے کھیل میں ہر چیز ممکن ہو سکتی ہے۔ میچ کے پہلے دن پچ میں نمی اور سوئنگ موجود تھی جو بولرز کے لیے کافی سازگار ثابت ہوئی، تاہم دوسرے اور تیسرے روز پچ بیٹرز کے لیے بہترین ہو گئی جس سے بیٹرز کو بیٹنگ میں کافی مدد ملی، بنگلادیش کے بیٹرز نے پچ کا فائدہ اٹھایا اور بہت اچھا کھیل پیش کیا جبکہ ہمارے بولرز اس معاملے میں بدقسمت رہے۔

مزید پڑھیں: بھارت گھٹنےٹیکنے پر مجبور!محسن نقوی کو آئی پی ایل فائنل دیکھنے کی باقاعدہ دعوت دیدی

ان کا مزید کہنا تھا کہ بدقسمتی سے پاکستانی ٹیم زیادہ ٹیسٹ میچز نہیں کھیلتی جس کی وجہ سے بولرز کا مطلوبہ ردھم نہیں بن پاتا۔ پہلے ٹیسٹ میچ میں پیسرز نے 40 سے زیادہ اوورز کیے تھے، ہمارے بولرز کے اندر انرجی اور صلاحیت کی کوئی کمی نہیں ہے، بس اصل مشکل تب پیش آتی ہے جب ہمیں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کے مواقع کم ملتے ہیں اور ہم چھ ماہ کے طویل وقفے کے بعد ٹیسٹ کرکٹ کھیل رہے ہیں۔