سابق وزیرِ اعظم آزاد کشمیر اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے علاقائی صدر سردار عبد القیوم خان نیازی نے کہا ہے کہ تحریکِ انصاف کو انتخابی عمل سے باہر رکھ کر الیکشن کروانے کی کوئی بھی کوشش ہرگز قبول نہیں کی جائے گی، کیونکہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے۔
کوٹلی میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیرِ اعظم آزاد کشمیر سردار عبد القیوم خان نیازی نے واضح کیا کہ ہم تحریکِ انصاف کو انتخابی میدان سے باہر رکھ کر الیکشن نہیں ہونے دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی بھی سازش جو ہمیں الیکشن سے دور کرنے کے لیے تیار کی جا رہی ہو، اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ ہم اس معاملے پر اپنی اپیل کا قانونی حق محفوظ رکھتے ہیں اور اگر اس قسم کا کوئی بھی غیر آئینی ایڈونچر کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کا براہِ راست فائدہ دشمن قوتوں کو ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن ،پی ٹی آئی کی رجسٹریشن کیلئے دائر درخواست مسترد
سردار عبد القیوم خان نیازی نے پارٹی کے انتخابی نشان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر میں تحریکِ انصاف ایک علیحدہ اور منظم جماعت ہے، اس لیے اس کا اصل انتخابی نشان اسے ہی ملنا چاہیے تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ عوامی حقوق کے لیے قائم ایکشن کمیٹی کے تمام جائز مطالبات کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ تحریکِ آزادی کشمیر کے وسیع تر تناظر پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کر کے آنے والے مہاجرین کی نشستیں ہر صورت قائم رہنی چاہئیں، اور اس نازک معاملے پر باقاعدہ قانون سازی کر کے ایک جامع اور اجتماعی لائحہ عمل اختیار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
سیاسی امور کے ساتھ ساتھ سابق وزیرِ اعظم نے کوٹلی شہر کی بگڑتی ہوئی صفائی کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے شہر میں کچرے کے ڈھیروں کی حالتِ زار دیکھ کر مقامی انتظامیہ اور بلدیہ کو سخت آڑے ہاتھوں لیا اور اسے ان کی کھلی نااہلی قرار دیا۔ سردار عبد القیوم نیازی کا کہنا تھا کہ شہر میں روزانہ کی بنیاد پر کچرے کا ڈسپوزل (تلفی) کرنا بلدیہ کی بنیادی ذمہ داری تھی، لیکن گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے اس سنگین مسئلے کو جان بوجھ کر الجھا کر رکھ دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: آلو، بینگن یا مولی پر بھی الیکشن لڑنا پڑا تو لڑیں گے اور سرپرائز پلس دیں گے، سردار عبد القیوم نیازی
انہوں نے کوٹلی شہر کے موجودہ حالات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب تو صورتحال اس حد تک بگڑ چکی ہے کہ شہر کے مختلف راستوں سے کچرے کے تعفن اور شدید بدبو کے باعث عام شہریوں کا گزرنا بھی محال ہو چکا ہے۔ سابق وزیرِ اعظم نے انتظامیہ اور مقامی سیاستدانوں کو متبادل تجویز دیتے ہوئے کہا کہ کوٹلی میں کچرے جیسے سنگین عوامی مسئلے پر سیاست چمکانے کی بجائے تمام متعلقہ اداروں کو متحرک ہو کر اس مسئلے کو فوری اور مستقل بنیادوں پر حل کرنا چاہیے تاکہ عوام کو اس ذہنی اور جسمانی اذیت سے نجات مل سکے۔




