کیا اسمارٹ فونز دنیا کو ویران کر رہے ہیں؟ بچوں کی پیدائش میں عالمی کمی پر نئی تحقیق سامنے آ گئی

دنیا بھر میں بچوں کی پیدائش کی شرح میں غیر معمولی اور تیز رفتار کمی دیکھی جا رہی ہے، جس کے بعد اب عالمی محققین اس بات کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ کہیں اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا دنیا کو ویران کرنے کی بڑی وجہ تو نہیں بن رہے۔

طویل عرصے سے ماہرین کا ماننا تھا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، زندگی کی تیز رفتار لاگت، رہائش کے سنگین مسائل، دیر سے شادیاں اور کیریئر کا بڑھتا ہوا دباؤ جیسے عوامل شرحِ پیدائش میں کمی کی بنیادی وجوہات ہیں۔ اگرچہ یہ معاشی اور سماجی عوامل آج بھی اپنی جگہ انتہائی اہم ہیں، لیکن اب جدید تحقیق کا رخ اس جانب مڑ گیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے انسانی تعلقات اور روزمرہ کی زندگی پر پڑنے والے اثرات نے اس رجحان کو کس حد تک تبدیل کر دیا ہے۔ ماہرین اب ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو اس عالمی تبدیلی کا ایک بڑا محرک قرار دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: گوگل پکسل 11 کی نئی ٹیکنالوجی: ایپل اور سام سنگ کو پیچھے چھوڑنے کی تیاری

تیز رفتار موبائل انٹرنیٹ کا پھیلاؤ اور چونکا دینے والی تحقیق:

برطانوی اخبار ’فنانشل ٹائمز‘ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، یونیورسٹی آف سِنسِناٹی کے ممتاز محققین نیتھن ہڈسن اور ہرنان موسکوسو بوئیڈو نے امریکا اور برطانیہ میں شرحِ پیدائش اور فور جی (4G) موبائل انٹرنیٹ کے پھیلاؤ کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ اس تحقیق میں یہ چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے کہ جن علاقوں یا ممالک میں تیز رفتار موبائل انٹرنیٹ پہلے پہنچا، وہاں بچوں کی پیدائش کی شرح میں کمی بھی دیگر علاقوں کی نسبت جلد اور زیادہ تیزی سے شروع ہوئی۔

نوجوانوں کے سماجی رویوں میں بنیادی تبدیلیاں:

محققین کا خیال ہے کہ اسمارٹ فونز نے نوجوان نسل کے ایک دوسرے سے ملنے جلنے اور روابط قائم کرنے کے روایتی طریقوں کو بنیادی طور پر بدل کر رکھ دیا ہے۔ لوگ اب اپنا زیادہ تر وقت آمنے سامنے بیٹھ کر گزارنے کے بجائے آن لائن پلیٹ فارمز پر سرفنگ کرنے میں گزارتے ہیں، جس کے باعث سماجی سرگرمیوں اور باہمی ملاقاتوں میں واضح کمی واقع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق نوجوانوں کی زندگیوں میں آنے والی یہی ڈیجیٹل تبدیلی شرحِ پیدائش میں مسلسل کمی کی ایک ممکنہ اور بڑی وجہ بنتی جا رہی ہے۔

اسمارٹ فونز کا عروج اور عالمی آبادیاتی رجحانات:

یہ تشویشناک رجحان صرف امریکا اور برطانیہ تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ فنانشل ٹائمز کے تجزیے کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک میں بھی شرحِ پیدائش میں نمایاں کمی کا آغاز تقریباً اسی دور میں ہوا جب اسمارٹ فونز عام ہونا شروع ہوئے تھے۔ امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا جیسے ترقی یافتہ ممالک میں سال 2000 کی دہائی کے آغاز تک نوجوانوں میں شرحِ پیدائش نسبتاً مستحکم رہی تھی، لیکن سال 2007 کے بعد اس میں ایک واضح اور بڑی کمی دیکھی گئی، یہ وہی دور تھا جب اسمارٹ فونز اور موبائل ایپلیکیشنز عالمی سطح پر تیزی سے مقبول ہو رہی تھیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کم عمر افراد میں یہ کمی سب سے زیادہ دیکھی گئی ہے، جو کہ اسمارٹ فونز کا سب سے زیادہ استعمال کرنے والا طبقہ ہے۔

سوشل میڈیا، احساسِ عدم تحفظ اور ازدواجی مسائل:

فن لینڈ کی معروف ماہرِ شماریات اینا روٹکرچ کے مطابق، نوجوانوں میں سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ استعمال ازدواجی تعلقات میں جنسی اور جذباتی مسائل پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا طویل مدتی اور پائیدار تعلقات کو قائم رکھنا مشکل بنا دیتا ہے، کیونکہ ڈیجیٹل اسکرینز پر لوگ مسلسل دوسروں کی بظاہر خوبصورت، پرتعیش اور کامیاب زندگیوں کا موازنہ اپنی زندگی سے کرتے رہتے ہیں۔ یہ موازنہ نوجوانوں میں احساسِ عدم تحفظ، مالی پریشانی اور شدید سماجی دباؤ کو جنم دیتا ہے۔ کچھ محققین کے مطابق یہ پلیٹ فارمز پہلے سے موجود خدشات جیسے نوکری کا دباؤ اور گھر خریدنے کی مشکلات کو ذہنی طور پر مزید بڑھا دیتے ہیں، جس کے باعث نوجوان خود کو والدین بننے کی ذمہ داری کے لیے تیار محسوس نہیں کرتے۔

مزید پڑھیں: خاتون کے ہاں 5دن میں 4بچوں کی پیدائش،غیر معمولی طبی واقعہ پرڈاکٹرز بھی حیران

ٹی وی کے مقابلے میں اسمارٹ فونز کے گہرے اثرات:

ماضی میں کی جانے والی بعض تحقیقات سے یہ بات پہلے ہی سامنے آ چکی ہے کہ میڈیا خاندانی فیصلوں پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ کچھ مطالعات میں پایا گیا تھا کہ ٹی وی ڈراموں میں چھوٹے خاندان دکھائے جانے کے بعد خواتین میں کم بچے پیدا کرنے کا رجحان بڑھا، جبکہ ایک اور تحقیق کے مطابق جن گھروں میں ٹی وی موجود تھا، وہاں میاں بیوی کے درمیان جسمانی تعلقات کی شرح نسبتاً کم دیکھی گئی۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ اسمارٹ فونز کا اثر ٹی وی سے کہیں زیادہ مہلک اور گہرا ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ ایک انتہائی ذاتی، ہر وقت انسان کے ساتھ رہنے والی اور سب سے زیادہ وقت لینے والی ٹیکنالوجی بن چکی ہے۔ اگرچہ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس عالمی کمی کی واحد وجہ ٹیکنالوجی نہیں، لیکن محققین کا ماننا ہے کہ اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا اس عالمی آبادیاتی تبدیلی کو مزید تیز کر رہے ہیں۔