پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آزاد کشمیر نے پارٹی رجسٹریشن کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے حالیہ فیصلے کو مکمل طور پر غیر آئینی اور غیر جمہوری قرار دے دیا ہے۔ پونچھ سے کشمیر ڈیجیٹل کے نمائندے کے مطابق، پارٹی قیادت نے اس فیصلے کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے انصاف کے حصول کے لیے فوری طور پر اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔
سابق وزیر اعظم اور صدر پی ٹی آئی آزاد کشمیر سردار عبد القیوم نیازی نے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر سخت ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی کی رجسٹریشن مسترد کرنے کا فیصلہ انصاف کے تمام بنیادی اصولوں کے سراسر منافی ہے۔ ان کے مطابق، اس اقدام کے ذریعے نہ صرف ایک غیر آئینی عمل کیا گیا ہے بلکہ خطے میں جمہوریت کو بھی بری طرح تباہ کر دیا گیا ہے۔
کشمیر ڈیجیٹل سے ٹیلی فونک گفتگو اور انتخابی عمل سے باہر رکھنے کا الزام:
سردار عبد القیوم نیازی نے کشمیر ڈیجیٹل سے خصوصی ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف آزاد جموں کشمیر کو انتخابی عمل سے باہر رکھنے کے لیے یہ سارا کھیل کھیلا ہے۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے اس یکطرفہ فیصلے نے آنے والے الیکشن کو ہی مکمل طور پر متنازعہ بنا کر رکھ دیا ہے۔
عمران خان کے نظریے کے ساتھ میدان میں اترنے کا عزم:
سابق وزیر اعظم سردار عبد القیوم نیازی نے پاکستان تحریک انصاف کے تمام ورکرز، عمران خان کے چاہنے والوں اور عوام کو یقین دلایا کہ وہ ہر صورت الیکشن میں حصہ لیں گے اور کسی بھی صورت ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے گھبرانے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تحریک انصاف کے امیدوار قائد عمران خان کے نظریے اور ان کی تصویر کے ساتھ انتخابی میدان میں اتریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے تحریک انصاف کی رجسٹریشن بلاجواز مسترد کردی، بیرسٹر گوہر خان کا الزام
آزاد جموں کشمیر کے انتخابات میں ‘سرپرائز پلس’ دینے کا دعویٰ:
صدر پی ٹی آئی آزاد جموں کشمیر نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 8 فروری 2024 کے الیکشن میں جس طرح عمران خان کے چاہنے والوں نے سب کو بڑا سرپرائز دیا تھا، بالکل ویسے ہی آزاد جموں کشمیر کے الیکشن میں بھی مخالفین کو ‘سرپرائز پلس’ دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف آزاد جموں کشمیر بھرپور انداز میں الیکشن کی تیاریاں جاری رکھے گی اور امیدواروں کے انٹرویوز بھی طے شدہ شیڈول کے مطابق ہی ہوں گے۔
آئینی جنگ اور کسی بھی انتخابی نشان پر لڑنے کا اعلان:
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ہم الیکشن کمیشن کے خلاف آئینی و قانونی جنگ بھی لڑیں گے اور ساتھ ہی عوام کی عدالت میں بھی جائیں گے۔ سردار عبد القیوم نیازی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا یہ فیصلہ کسی صورت عمران خان کے ٹائیگرز کے حوصلے پست نہیں کر سکتا، اگر ہمیں آلو، بینگن، گاجر اور مولی پر بھی الیکشن لڑنا پڑا تو لڑیں گے اور مخالفین کو حیران کن نتائج سے دوچار کریں گے۔
حساس خطے میں انتخابی کھیل پر تشویش اور عدلیہ سے توقعات:
سابق وزیر اعظم نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے اس حساس ترین خطے میں بھی اب وہی کھیل شروع کر دیا گیا ہے جو پاکستان میں کھیلا گیا تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ایسے الیکشن کی کوئی ساکھ ہوگی، کیا ان الیکشن کو کوئی آئینی جواز مل سکے گا اور کیا ایسی کوئی مثال ماضی میں ملتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو انتخابی عمل سے باہر کرنا الیکشن کو متنازع بنانے کے مترادف ہے۔ آخر میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ اعلیٰ عدلیہ انصاف فراہم کرے گی اور پی ٹی آئی کی رجسٹریشن کے لیے کھڑی کی جانے والی تمام رکاوٹوں کو دور کرے گی۔
مزید پڑھیں: بلاول بھٹو سے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کی اہم ملاقات، الیکشن امور پر تبادلہ خیال




