امریکا میں منعقدہ ایک فضائی شو کے دوران کروڑوں ڈالر مالیت کے دو امریکی جنگی طیارے فضا میں کرتب دکھاتے ہوئے آپس میں ٹکرا کر مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔ اس خوفناک اور ڈرامائی حادثے کے دوران طیاروں میں موجود تمام پائلٹس اور عملے کے ارکان معجزانہ طور پر موت کے منہ سے بال بال بچنے میں کامیاب رہے۔
امریکا میں ہونے والے ایک فضائی شو (ایئر شو) کے دوران ایک انتہائی ہولناک حادثہ پیش آیا ہے جہاں دو جنگی طیارے فضا میں آپس میں بری طرح ٹکرا گئے۔ خوش قسمتی اور معجزانہ طور پر ان دونوں طیاروں میں موجود عملے کے تمام چاروں ارکان اس شدید ترین حادثے میں محفوظ رہے ہیں۔ امریکی نیوی کے ایک ترجمان نے برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ جب یہ تصادم ہوا تو دونوں طیارے فضا میں کرتب دکھانے میں مصروف تھے اور جیسے ہی حادثہ پیش آیا، عملے نے انتہائی مستعدی کے ساتھ وقت پر طیاروں سے باہر نکل کر اپنی جانیں محفوظ بنائیں۔
یہ بھی پڑھیں: وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے ، ٹرمپ نے ایران کو ایک اور دھمکی دیدی
یہ انتہائی ڈرامائی واقعہ اتوار کے روز امریکی ریاست ایڈاہو میں ماؤنٹین ہوم ایئر فورس بیس کے قریب پیش آیا، جہاں گن فائٹر اسکائیز ایئر شو کے دوسرے اور آخری دن کی فضائی سرگرمیاں جاری تھیں۔ دونوں جنگی طیاروں کے آپس میں ٹکرانے کے فوراً بعد ان میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔ طیاروں میں آگ لگنے کی وجہ سے پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر فوجی بیس کو کچھ دیر کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا، جبکہ انتظامیہ کی جانب سے ایئر شو کی باقی تمام طے شدہ سرگرمیاں فوری طور پر منسوخ کر دی گئیں۔
Terrifying video shows two U.S. Navy EA-18G Growler jets collide midair during the second day of the Gunfighter Skies Air Show at Mountain Home Air Force Base in Idaho on Sunday.
All four crew members successfully ejected and are being evaluated by medical personnel, the U.S.… pic.twitter.com/O8KlB1Regj
— Fox News (@FoxNews) May 17, 2026
ماؤنٹین ایئر فورس بیس گن فائٹرز نے اتوار کے روز سماجی رابطوں کی ویب سائٹ (سوشل میڈیا) پر جاری کردہ ایک باقاعدہ بیان میں اس افسوسناک واقعے کی تصدیق کی ہے۔ عسکری حکام نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ اس فضائی حادثے کا شکار ہونے والے عملے کے تمام ارکان کی حالت اب مکمل طور پر مستحکم ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایئر شو کا نظارہ کرنے کے لیے آنے والے تمام مہمانوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ اپنے تمام مہمانوں کے صبر اور ہمدردی کے بے حد شکر گزار ہیں، جن کے تعاون کی بدولت انتظامیہ کو اس حادثے پر فوری اور محفوظ طریقے سے ردِعمل دینے کا موقع ملا۔
امریکی نیوی کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ دونوں طیاروں کے پائلٹس اور عملے کے دیگر ارکان کو حادثے کے فوری بعد طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ماہر ڈاکٹرز ان کی صحت کی مکمل جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔ دوسری جانب، اس ایئر شو کے انتظامات کو سنبھالنے میں مدد فراہم کرنے والی تنظیم ‘سلور ونگز آف ایڈاہو’ کے نمائندے کم سائکس نے مقامی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ اس بڑے حادثے کے نتیجے میں ملٹری بیس پر موجود کسی بھی دوسرے شخص یا تماشائی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔
موصولہ معلومات کے مطابق حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہونے والے دونوں طیارے ’ای اے 18 جی گرافلر‘ ماڈل کے تھے، جن کا تعلق امریکی ریاست واشنگٹن کے الیکٹرانک اٹیک اسکواڈرن سے تھا۔ امریکی نیوی کے حکام کے مطابق یہ طیارے انتہائی جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس اور بے حد مہنگے ہیں، اور اس ماڈل کے محض ایک سنگل جنگی طیارے کی مالیت ہی تقریباً 6 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کے قریب ہوتی ہے۔ امریکی عسکری حکام کی جانب سے اس مہنگے ترین حادثے کی اصل وجوہات کا پتہ لگانے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایرانی صدر کا سوشل میڈیا پر ساڑھے چار ہزار سال پرانے درخت کا تذکرہ
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ یہ گن فائٹر اسکائیز ایئر شو اس سے قبل سال 2018 میں منعقد کیا گیا تھا اور اس وقت بھی شو کے دوران ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا جس میں ایک گلائیڈر پائلٹ حادثے کا شکار ہو کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔ سال 2018 کے اس مہلک واقعے کے بعد اب دوبارہ اس شو کے انعقاد کے دوران یہ دوسرا بڑا فضائی حادثہ سامنے آیا ہے، تاہم اس بار خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔




