صحافت کا سنہری باب بند، بانی اردو ڈائجسٹ الطاف حسن قریشی انتقال کرگئے

لاہور(کشمیر ڈیجیٹل)اردو ڈائجسٹ کے بانی معروف صحافی الطاف حسن قریشی انتقال کرگئے۔معروف صحافی اور اردو ڈائجسٹ کے بانی الطاف حسن قریشی انتقال کر گئے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے معروف صحافی اور اردو ڈائجسٹ کے بانی الطاف حسن قریشی کے انتقال پر اظہار افسوس اور دعائے مغفرت کی۔

وزیراعظم شہبازشریف ، احسن اقبال کا کہنا تھا کہ الطاف حسن قریشی کے انتقال سے صحافت کے شعبے میں ایسا خلا پیدا ہوگیاجو کبھی پر نہیں ہوسکتا

مرحوم الطاف حسن قریشی کی صحافت کی بے پایاں خدمات رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پیرچناسی روڈ پر ٹریفک کا المناک حادثہ، ایک شخص جاں بحق، 2 افراد زخمی

مرحوم کے بیٹے کامران الطاف کے مطابق الطاف حسن قریشی کی نماز جنازہ کل بعد نماز ظہر جامعہ اشرفیہ میں ادا کی جائےگی۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی الطاف حسن قریشی کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ الطاف حسن قریشی کے انتقال سے صحافت، فکر و دانش اور قومی مکالمے کے میدان میں ایک گہرا خلا پیدا ہوگیا ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ وہ صحافت کی دنیا کا ایک روشن مینار تھے، انہوں نے اپنی تحریروں، فکری بصیرت اور نظریاتی مؤقف کے ذریعے صحافت کو نئی جہت عطا کی، انہوں نے ہمیشہ دیانتدارانہ، باوقار صحافت کو فروغ دیا اور نوجوان صحافیوں کیلئے ایک روشن مثال قائم کی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:میرپور میں دو موٹر سائیکلوں کے درمیان خوفناک تصادم، چار نوجوان شدید زخمی

سابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے بھی الطاف حسن قریشی کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم نے صحافت، فکر اور قومی شعور کی بیداری میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔

الطاف حسن قریشی پاکستان کے ممتاز سینئر صحافی، مایہ ناز دانشور اور ماہنامہ اردو ڈائجسٹ کے مدیرِ اعلیٰ تھے ۔ 94برس کی عمر میں انتقال کرگئے ۔

الطاف حسن قریشی نے سوگواروں میں پانچ بیٹے اور چار بیٹیاں چھوڑی ۔ متعدد مشہور کتابوں کے مصنف تھے۔ ان کی معروف تصنیفات میںملاقاتیںمقابل ہے آئینہ، ‘چھ نکات کی سچی تصویر،نوکِ زباں،مشرقی پاکستان ٹوٹا ہوا تارا شامل ہیں۔

صحافتی اعتراف

مرحوم کی گراں قدر صحافتی خدمات اور طویل جدوجہد کے اعتراف میں سال 2019 میں ان پرالطافِ صحافت کے نام سے ایک دستاویزی کتاب بھی شائع کی گئی تھی۔
الطاف حسن قریشی کی وفات سے پاکستانی صحافت اور ادب کا ایک سنہرا باب بند ہو گیا ہے۔