بنوں: خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں خوارج کی جانب سے معصوم شہریوں اور پولیس کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے خودکش حملے کی تفصیلات منظرِ عام پر آگئی ہیں۔ پولیس کی بروقت کارروائی نے دہشت گردوں کا سول آبادی کو نشانہ بنانے کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا، تاہم دھماکے کی شدت کے باعث پولیس اسٹیشن کی چھت گرنے سے جانی نقصان ہوا ہے۔
تفصیلات کے مطابق 9 مئی 2026 کو بنوں کے علاقے میں پولیس اسٹیشن فتح خیل کے قریب پولیس نے ایک مشتبہ گاڑی کو روکا جو تیزی سے سول آبادی کی طرف بڑھ رہی تھی۔ پولیس کی جانب سے رکنے کا اشارہ ملتے ہی گاڑی میں سوار خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی کو دھماکے سے اڑا دیا۔ دھماکہ اس قدر زوردار تھا کہ پولیس اسٹیشن فتح خیل کی چھت گر گئی اور قریبی رہائشی مکانات کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
یہ بھی پڑھیں: بنوں میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن: فتنہ الخوارج کے 2 انتہائی مطلوب دہشت گرد ہلاک
پولیس اسٹیشن کی چھت گرنے اور دھماکے کی زد میں آنے کی وجہ سے 13 پولیس اہلکار اور سویلین شہید ہو گئے، جبکہ 6 افراد شدید زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں 3 عام شہری بھی شامل ہیں جنہیں فوری طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن “غضب للحق” کی مسلسل کامیابیوں کے نتیجے میں حواس باختہ خوارج نے اپنے ہندوستانی آقاؤں کے اشاروں پر اب سافٹ ٹارگٹس اور سول آبادی کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔
اس بزدلانہ واقعے کے بعد بنوں کے عوام میں خوارج کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور شہریوں نے سیکورٹی فورسز سے ان دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب، بنوں کے عوامی حلقوں نے صوبائی حکومت کے رویے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا (CM KPK) ہمیشہ کی طرح اس بڑے المیے پر بھی بے حس اور خاموش نظر آ رہے ہیں، جس سے عوام میں مایوسی پھیل رہی ہے۔




