مظفرآباد،نیلم(کشمیر ڈیجیٹل)ناظم جنگلات مظہر نقوی کی بروقت کاروائی، 50لاکھ سے زائد مالیت دیودار کی قیمتی لکڑی اور تیار شدہ فریمیں اور لریں نیلم سے راولپنڈی سمگل کرتے ہوئے پکڑ لی۔
شاردہ چیک پوسٹ پر ٹرک سمیت تحویل میں لیکر محکمانہ کاروائی شروع کر دی ہے سول سوسائٹی کی جانب سے محکمہ کی بروقت کاروائی کا خیر مقدم۔
ناظم جنگلات نیلم سرکل سید مظہر نقوی ایک اچھی شہرت رکھتے ہیں اور محکمہ کے امور پر مضبوط گرفت کے حامل ہیں اور سمگلروں کے لئے خوف کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔۔
مزید یہ بھی پڑھیں:باغ سے ڈھلی تک تاریخی پاکستان زندہ بادریلی، وزیراعظم شرکت کرینگے، سردار قمرالزمان خان
ناظم جنگلات کو اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے کروڑوں روپے کی جڑی بوٹی اور لکڑی سمگلنگ کی واداتوں کو ناکام بنایا ہے، غیر قانونی لکڑی کی اسمگلنگ کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے آئل ٹینکر کے ذریعے منتقل کی جانے والی قیمتی لکڑی ضبط کر لی۔
کارروائی محکمہ جنگلات کے اعلی حکام کی ہدایات پر عمل میں لائی گئی۔ذرائع کے مطابق اسمگلروں نے دودنیال کے ایک پرائیویٹ گیسٹ ہاؤس میں آئل ٹینکر کے اندر خفیہ خانوں کے ذریعے غیر قانونی لکڑی لوڈ کی تھی جسے وادی سے باہر منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
خفیہ اطلاع ملنے پر فاریسٹ ڈویژن شاردہ کے عملے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ٹینکر کا تعاقب شروع کیا۔ کارروائی میں راجہ طارق بلاک آفیسر، خواجہ احمر بلاک آفیسر، بلاک آفیسر سیف اللہ، فاریسٹ گارڈ بلال، افضل گنائی اور امجد رفیق نے حصہ لیا جنہوں نے رات بھر مسلسل نگرانی اور تعاقب کے بعد علی الصبح چانگاں کے مقام پر ٹینکر کو روک کر قبضے میں لے لیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم کا عوامی خدمت کا ایک اور وعدہ پورا،ہنڈی پیراں ایف اے پی سنٹر کا افتتاح
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسمگلروں نے ٹینکر کی نگرانی اور حفاظت کیلئے ایک پرائیویٹ گاڑی بھی ساتھ رکھی ہوئی تھی، تاہم کارروائی کے دوران ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
واقعے کے فوری بعد تھانہ لوات پولیس کو اطلاع دی گئی جس پر ڈی ایف سی بمعہ نفری موقع پر پہنچے اور جنگلات عملے کے ساتھ مل کر ٹینکر کو یوٹی آٹھمقام منتقل کردیا گیا۔
پولیس نے ٹینکر ڈرائیور کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے اسے تھانہ لوات میں حراست میں لے لیا۔ بعدازاں ناظم جنگلات سرکل نیلم سید مظہر نقوی کی موجودگی میں گاڑی سے لکڑی اتار کر اس کی پیمائش کی گئی اور 28 ایف آر درج کرتے ہوئے ٹینکر کو سرکاری تحویل میں کھڑا کر دیا گیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی بورڈ کا اجلاس لاہور میں جاری
ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ مذکورہ آئل ٹینکر خصوصی طور پر اسمگلنگ کیلئے تیار کیا گیا تھا اور اسے سرکاری آٹا سپلائی کے ساتھ واپسی پر لکڑی کی غیر قانونی ترسیل کیلئے استعمال کیا جاتا رہا۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ٹینکر پر مختلف نمبر پلیٹس استعمال کی جاتی تھیں تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دھوکہ دیا جا سکے۔عوامی، سماجی اور سیاسی حلقوں نے کامیاب کارروائیپر جنگلات کے تحفظ کیلئے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور لکڑی کی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ قدرتی وسائل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔



