محکمہ خوراک کا ہڑتالی افسران و ملازمین کیخلاف سخت ایکشن،60سے چارج واپس

مظفرآباد: محکمہ خوراک کے فیلڈ عملہ کی ہڑتال پر حکومت نے بڑا کریک ڈاؤن کرتے ہوئے ہڑتالی افسران کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے اور 60 سے زائد افسران و ملازمین کے چارج واپس لے لئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق فوڈ ایمپلائز ایسوسی ایشن آزاد کشمیر کی کال پر فیلڈ سٹاف کی ہڑتال اور گندم / آٹے کی سپلائی کی بندش کا حکومت نے سخت نوٹس لے لیا اور محکمہ خوراک میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں:محکمہ خوراک آزاد کشمیر کے ملازمین اسلام آباد پہنچ گئے، دفاتر کا گھیرائو، کام چھوڑ ہڑتال کااعلان

ہڑتال کے باعث پنجاب سمیت ملک بھر سے گندم، آٹے کی سپلائی، پسوائی اور ڈلوائی اور آزاد کشمیر بھر میں آٹے کی سپلائی بھی معطل ہے جس پر ہرتالی افسران و ملازمین کے انتظامی اختیارات واپس لے لئے گئے ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل خوراک نے ہرتالی افسران سے انتظامی اختیارات واپس لے کر 60 سے زائدافسران و ملازمین کو اضافی چارج دے دئیے ہیں ،ا ب چارجز چارجز کلریکل اسٹاف کو منتقل کر دیئے گئے ہیں۔

اعلیٰ حکام کا واضح پیغام ہے کہ ضروری سروسز میں شامل محکمہ خوراک کے نظام میں رکاوٹ، قانون شکنی یا بغاوت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:خوراک کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، فوڈ اتھارٹی کے حکام کا واضح اعلان

حکام کا کہنا ہے احتجاج کی آڑ میں سرکاری نظام مفلوج کرنے کی کوشش کرنے والے تمام افسران اور اہلکاروں کے خلاف بلا تخصیص قانونی و انضباطی شکنجہ مزید سخت کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ محکمہ خوراک کے ملازمین کے احتجاج کے باعث غذائی بحران پید اہونےکا بھی خدشہ ہے جس پر محکمہ خوراک کے حکام سخت اقدامات اٹھا رہے ہیں۔