کیرن سیکٹر، دریا پار سے میت کا آخری دیدار، کشمیری منقسم خاندان کی دردناک کہانی

 مقبوضہ کشمیر و آزادکشمیر کو جدا کرنے خونی لکیر لائن آف کنٹرول پر گزشتہ دنوں منقسم خاندانوں کیلئے دردناک مرحلہ سامنے آیا جب مقبوضہ جموں وکشمیر کیرن گائوں میں وفات پانے والے لیاقت علی خان کی نماز جنازہ و تدفین میں آزادکشمیر ہجرت کرنے والے اسکے خونی رشتے دار شریک نہ ہوسکے۔

مرحوم لیاقت علی خان کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے لواحقین نے بعد از وفات نماز جنازہ عین ایل او سی پر ادا کرنے کے بعد دریائے نیلم کے اس پار کیرن میں جمع منقسم خاندان کے پسماندگان کو دریا پار سے تابوت قدرے ترچھا کرکے میت کا دیدار کروانے کی کوشش کی۔

یہ بھی پڑھیں:سری نگر: عدالت نے 15 برس بعد کشمیری نوجوانوں کی بے گناہی تسلیم کر لی

یہ دردناک و کربناک منظر لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف جمع سوگوران و دیگر غم بانٹنے والے درجنوں افراد نے دیکھا۔

مقامی عینی شاہدین کے مطابق جب متوفی لیاقت علی خان کا آخری دیدار سیکڑوں فٹ پار مقبوضہ کشمیر سے کروایا گیا اگرچہ مرحوم کا چہرہ آزادکشمیر میں دریائے نیلم کنارے جمع سوگواران کو واضح دکھائی تو نہیں دیا مگر ہر دو اطراف آہ و بکا واضح سنی یا دیکھی گئی۔

منظر دیکھ کر عینی شاہدین کی آنکھیں بھی نمناک ہوگئیں۔

کیرن مقبوضہ کشمیر میں وفات پا جانے والے لیاقت علی خان کی میت کا آخری دیدار کیرن آزاد کشمیر میں کھڑے ان کے بھائیوں ، بہنوں اور دیگر رشتے داروں کو کروایا گیا جو مقبوضہ کشمیر میں آزادی اور الحاق پاکستان کے حق میں پرامن جدوجہد کرنے کی پاداش میں ہزاروں دیگر کشمیریوں کے ہمراہ 1990 میں بھارتی افواج کے مظالم سے تنگ آکر آزادکشمیر ہجرت پر مجبور ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:کشمیریوں کی وائٹ ہائوس کے سامنے بھارتی مظالم کیخلاف احتجاجی مہم

بی بی سی کے مطابق راجہ لیاقت علی کیرن میں ایک معروف شخصیت تھے اور نائب تحصیلدار کے طور پر وہیں تعینات تھے۔ ظہور کے مطابق جب ان کا خاندان ایل او سی پار چلا گیا تو وہ نوکری کی وجہ سے یہیں رک گئے۔انہیں اُمید تھی کہ حالات ٹھیک ہو جائیں تو رابطے پھر بحال ہوں گے لیکن ایسا ہو نہ سکا۔

اب یہ کشمیری مقبوضہ کشمیر نہیں جاسکتے اور نہ ہی مقبوضہ کشمیر کے عوام آزادکشمیر کا سفر کرسکتے ہیں جو بھارتی حکومت کی جابرانہ اور سخت ترین پالیسی کا حصہ ہے ۔

ہزاروں منقسم کشمیری خاندانوں کے افراد عیدین ، شادی بیاہ اور دیگر خوشی کے مواقعوں پر بھی اسی طرح دریا کنارے آکر اپنے اپنے آبائی علاقوں سے بغیر بنفس نفیس شرکت کے صرف ہاتھ ہلا کر یا اونچی آوازوں کے تبادلے و اشاروں کے ذریعے شریک ہوتے ہیں اور ہر بار ٹیٹوال سیکٹر، کیرن یا دیگر مقامات پر رقت آمیز مناظر دیکھے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:سرینگر : کشمیری شہری کا پاکستانی عسکری قیادت کیلئے محبت بھرا پیغام

یہ منقسم خاندان اپنے پیاروں کی غمی و خوشی میں شرکت تو نہیں کرسکتے البتہ یہ دریا جو لائن آف کنٹرول کو تقسیم کررہا ہے دونوں اطراف کے منقسم کشمیری خاندانوں کو کسی حد تک روحانی سکون بخشنے کا واحد ذریعہ سمجھا جارہا ہے کیونکہ منقسم کشمیری دریا کے ار پار دور بینوں یا آنکھوں سے کم از کم اپنے پیاروں کا دھندلا سہی کمزور سا دیدار ضرور کرلیتے ہیں۔

Scroll to Top