شرح سود 11.5 فیصد، سٹیٹ بینک آف پاکستان کا نئی مانیٹرنگ پالیسی کا اعلان

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پالیسی ریٹ میں 100بیسز پوائنٹ کا اضافہ کردیا۔

گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی، اجلاس میں ہونے والے فیصلے کے بعد نئی شرح سود 11.5 فیصد مقرر کی گئی، پہلے شرح سود 10.5 فیصد تھی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:جہاں خواتین کو ووٹ دینے سے روکا گیا وہاں کا الیکشن کالعدم قرار دیاجائےگا،چیف الیکشن کمشنر

سال 2026 کے تیسرے مانیٹری پالیسی اجلاس میں مہنگائی، تیل کی قیمتوں سے متعلق پالیسی کا جائزہ بھی لیا گیا اور شرح سود ایک فیصد بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔

معاشی ماہرین کی جانب سے شرح سود میں اضافے کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ جنگ کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی مارکیٹ میں معاشی بے یقینی کی صورتحال کو قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر پولیس کا کسی سیاسی جماعت یا مسلک سے کوئی تعلق نہیں،آئی جی لیاقت علی ملک

میڈیا رپورٹس کے مطابق شرح سود ساڑھے 10فیصد سے بڑھ کر ساڑھے 11فیصد کی سطح پر آگئی۔

فیصلہ گورنر اسٹیٹ بینک کی صدارت مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ جائزے میں اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھا تھا اور آج ہونے والے اجلاس میں نئی مانیٹری پالیسی کے تحت شرح سود کے حوالے سے فیصلہ سامنے آئے گا۔

Scroll to Top